| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اُس کے بائیں ہاتھ کی طرف جہنم کی کھڑکی کھولیں گے، جس کی لپٹ اور جلن اور گرم ہوا اور سخت بدبو آئے گی اور معاً(1) بند کر دیں گے، اُس کے بعد دہنی طرف سے جنت کی کھڑکی کھولیں گے اور اُس سے کہا جائے گا کہ اگر تُو اِن سوالوں کے صحیح جواب نہ دیتا تو تیرے واسطے وہ تھی اور اب یہ ہے، تاکہ وہ اپنے رب کی نعمت کی قدر جانے کہ کیسی بلائے عظیم سے بچا کر کیسی نعمتِ عظمیٰ عطا فرمائی۔ اور منافق کے لیے اس کا عکس ہوگا، پہلے جنت کی کھڑکی کھولیں گے کہ اس کی خوشبو، ٹھنڈک، راحت، نعمت کی جھلک دیکھے گا اور معاً بند کر دیں گے اور دوزخ کی کھڑکی کھول دیں گے، تاکہ اُس پر اس بلائے عظیم کے ساتھ حسرتِ عظیم بھی ہو(2) ، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو نہ مان کر، یا اُن کی شانِ رفیع میں ادنیٰ گستاخی کرکے کیسی نعمت کھوئی اور کیسی آفت پائی! اور اگر مُردہ منافق ہے تو سب سوالوں کے جواب میں یہ کہے گا:
((ھَاہْ ھَاہْ لَا أَدْرِي.))
''افسوس! مجھے توکچھ معلوم نہیں۔''
((کُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْأاً فأقوْلُ.))
''میں لوگوں کو کہتے سنتا تھا، خود بھی کہتا تھا۔''
اس وقت ایک پکارنے والا آسمان سے پکارے گا: کہ یہ جھوٹا ہے، اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور آگ کا لباس پہناؤ اور جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ اس کی گرمی اور لپٹ اس کو پہنچے گی اور اس پر عذاب دینے کے لیے دو فرشتے مقرر ہوں گے، جو اندھے اور بہرے ہوں گے، ان کے ساتھ لوہے کاگُرز ہو گا کہ پہاڑ پر اگر مارا جائے تو خاک ہو جائے، اُس ہتوڑے سے اُس کو1۔۔۔۔۔۔ فوراً۔
2۔۔۔۔۔۔ عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:... ((فیقال: افتحوا لہ بابا إلی النار، فیفتح لہ بابا إلی النار، فیقال: ھذا کان منزلک لو عصیت اللہ عز وجل، فیزداد غبطۃ وسرورا، ویقال لہ: افتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، فیفتح لہ، فیقال: ھذا منزلک وما أعدّ اللہ لک، فیزداد غبطۃ وسرورا،... وأمّا الکافر...، فیقال: افتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، فیفتح لہ باب إلی الجنۃ، فیقال لہ: ھذا کان منزلک وما أعدّ اللہ لک لو أنت أطعتہ، فیزداد حسرۃ وثبورا، ثم یقال لہ: افتحوا لہ بابا إلی النار، فیفتح لہ بابا إلیہا، فیقال لہ: ھذا منزلک وما أعدّ اللہ لک، فیزداد حسرۃ وثبورا))، ملتقطاً.
''المعجم الأوسط''، الحدیث: ۲۶۳۰، ج۲، ص۹۲. و''شرح الصدور''، ص۱۳۳.