| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اُس وقت ہر شخص پر اسلام کی حقّانیت آفتاب سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے، مگر اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں، اس لیے کہ حکم ایمان بالغیب کا ہے اور اب غیب نہ رہا، بلکہ یہ چیزیں مشاہد ہو گئیں۔(1)
عقیدہ (۲): مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق بدنِ انسان کے ساتھ باقی رہتا ہے، اگرچہ روح بدن سے جُدا ہو گئی، مگر بدن پر جو گزرے گی رُوح ضرور اُس سے آگاہ و متأثر ہوگی، جس طرح حیاتِ دنیا میں ہوتی ہے، بلکہ اُس سے زائد۔ دنیا میں ٹھنڈا پانی، سرد ہَوا، نرم فرش، لذیذ کھانا، سب باتیں جسم پر وارِد ہوتی ہیں، مگر راحت و لذّت روح کو پہنچتی ہے اور ان کے عکس بھی جسم ہی پر وارِد ہوتے ہیں اور کُلفت و اذیّت روح پاتی ہے،اور روح کے لیے خاص اپنی راحت واَلم کے الگ اسباب ہیں، جن سے سرور یا غم پیداہوتا ہے، بعینہٖ(2) یہی سب حالتیں برزخ میں ہیں۔(3)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
=(لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ)، فیقول اللہ عز وجل: اکتبوا کتابہ في سجین في الأرض السفلی فتطرح روحہ طرحا ثم قرأ: (وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ)، فتعاد روحہ في جسدہ ویأتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان لہ: من ربک؟ فیقول: ہاہ ہاہ لا أدري فیقولان لہ: ما دینک؟ فیقول: ہاہ ہاہ لا أدري فیقولان لہ: ما ھذا الرجل الذي بعث فیکم؟ فیقول: ہاہ ہاہ لا أدري فینادي مناد من السماء أن کذب فافرشوا لہ من النار وافتحوا لہ بابا إلی النار فیأتیہ من حرہا وسمومہا ویضیق علیہ قبرہ حتی تختلف فیہ أضلاعہ ویأتیہ رجل قبیح الوجہ قبیح الثیاب منتن الریح فیقول: أبشر بالذي، یسوء ک ھذا یومک الذي کنت توعد فیقول: من أنت فوجہک الوجہ یجيء بالشر فیقول: أنا عملک الخبیث فیقول: رب لا تقم الساعۃ)). ''المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث:۱۸۵۵۹، ج۶، ص۴۱۳۔۴۱۴.
1۔۔۔۔۔۔ (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا بِاللہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّۃَ اللہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکَافِرُوْنَ).پ۲۴، المؤمن:۸۴۔۸۵.
في ''تفسیر الطبري''، ج۱۱، ص۸۳، تحت الآیۃ: (یقول تعالی ذکرہ: فلم یک ینفعہم تصدیقہم فی الدنیا بتوحید اللہ عند معاینۃ عقابہ قد نزل، وعذابہ قد حل؛ لأنھم صدقوا حین لا ینفع التصدیق مصدقا، إذ کان قد مضی حکم اللہ فی السابق من علمہ، أن من تاب بعد نزول العذاب من اللہ علی تکذیبہ لم تنفعہ توبتہ)۔
2۔۔۔۔۔۔ بالکل۔
3۔۔۔۔۔۔ في''منح الروض الأزہر''، ص۱۰۰۔۱۰۱: (''وإعادۃ الروح'' أي: ردّہا أو تعلقہا ''إلی العبد'' أي: جسدہ بجمیع أجزائہ أو بعضہا مجتمعۃ أو متفرقۃ ''في قبرہ حق''، والواو لمجرد الجمعیۃ فلا ینافي أنّ السؤال بعد إعادۃ الروح وکمال الحال)، واعلم: أنّ أھل الحق اتفقوا علی أنّ اللہ تعالیٰ یخلق في المیت نوع حیاۃ في القبر قدر ما یتألم أو یتلذذ)، ملتقطاً.
=