1 عِلْمِ ذاتی :وہ علم کہ اپنی ذات سے بغیرکسی کی عطاکے ہو(اسے'' علم ذاتی'' کہتے ہیں)،اوریہ صرف اللہ عزّوجلّ ہی کے ساتھ خاص ہے ۔ (ماخوذاز فتاوی رضویہ، ج۲۹،ص ۵۰۳)
2 عِلمِ عطائی:وہ علم جواللہ عزوجل کی عطاسے حاصل ہو،اسے'' علم عطائی'' کہتے ہیں۔
(ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۲۹،ص ۵۰۳)
3 مُعْجِزہ :نبی سے بعد دعوی نبوت خلاف عقل وعادت صادر ہونے والی چیزکوجس سے سب منکرین عاجز ہوجاتے ہیں اسے معجزہ کہتے ہیں۔ (ماخوذازبہارشریعت، حصہ۱،ص۳۸)
4 مُحْکَمْ : جس کے معنی بالکل ظاہرہوں اوروہی کلام سے مقصودہوں اس میں تاویل یاتخصیص کی گنجاءش نہ ہواور نسخ یاتبدیل کااحتمال نہ ہو۔ (تفسیر نعیمی، ج۳،ص۲۵۰)
5 مُتَشابہ : جس کی مرادعقل میں نہ آسکے اوریہ بھی امیدنہ ہوکہ رب تعالیٰ بیان فرمائے ۔
(تفسیر نعیمی ،ج۳ ،ص۲۵۰)
6 اِلہام : ولی کے دل میں بعض وقت سوتے یاجاگتے میں کوئی بات اِلقاہوتی ہے(یعنی دل میں ڈالی جاتی ہے)۔اس کوالہام کہتے ہیں ۔ (بہار شریعت ،حصہ ۱،ص۳۱)
7 وحی شیطانی :جوشیطان کی جانب سے کاہن ،ساحر،کفاروفُسّاق کے دلوں میں ڈالی جاتی ہے۔
(ماخوذازبہار شریعت ،حصہ ۱،ص۳۲)
8 اِرہاص : نبی سے جوبات خلافِ عادت نبوت سے پہلے ظاہرہواس کوارہا ص کہتے ہیں۔
(ماخوذ ازبہارشریعت، حصہ ۱،ص۳۸)
9 کرامت : ولی سے جوبات خلافِ عادت صادرہواس کوکرامت کہتے ہیں۔ (ماخوذ ازبہارشریعت، حصہ ۱،ص۳۸)
10 مَعُونت :عام مومنین سے جوبات خلاف عادت صادرہواس کومعونت کہتے ہیں۔
(ماخوذ ازبہار شریعت، حصہ ۱،ص۳۸)
11اِسْتِدراج :بے باک فُجّاریاکفارسے جوبات ان کے موافق ظاہرہواس کواستدراج کہتے ہیں ۔
(ماخوذ ازبہار شریعت ،حصہ ۱،ص۳۸)