34 کَھلی:تِلہن(غلہ جس سے تیل نکالاجائے) یاسرسوں کاپھوک
35 نارنگی:ایک خوش رنگ پھل جو عموماً کھٹ مٹھا ہوتا ہے(سنگترے سے چھوٹا)
36 کاہو:ایک قسم کاساگ اوراس کابیج جوبہت چھوٹاہوتاہے اوراکثراس کاتیل دماغ کی خشکی کودورکرنے کے لیے دواکے طورپراستعمال کرتے ہیں۔
37 کامران :ایک جگہ کانام ہے۔
38 جَنَّتُ المَعْلٰی:جنت البقیع کے بعد مکہ مکرمہ میں جَنَّتُ المعلٰی دنیا کا سب سے افضل ترین قبرستان ہے یہاں ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور کئی صحابہ وتابعین رضی اللہ تعالی عنھم اور اولیاء وصالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کے مزارات مقدسہ ہیں۔
39 وادی مُحصَّب:جَنَّتُ المعلٰی کہ مکہ معظمہ کا قبرستان ہے اس کے پاس ایک پہاڑ ہے اور دوسرا پہاڑ اس پہاڑ کے سامنے مکہ کو جاتے ہوئے داہنے ہاتھ پر نالہ کے پیٹ سے جداہے ان دونوں پہاڑوں کے بیچ کا نالہ وادی ئ محصب ہے ۔
40 مَسْجدُ الْجِن:یہ مسجدجَنَّتُ المعلٰی کے قریب واقع ہے۔سرکارمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نماز فجرمیں قرآن پاک کی تلاوت سن کریہاں جنات مسلمان ہوئے تھے۔
41 جَبلِ ثَور :یہ وہ مقدس پہاڑ ہے جس کے غارمیں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے رفیق خاص سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہجرت کے وقت تین رات قیام پذیر رہے۔یہ غار مبارک مکہ مکرمہ کی دائیں جانب مَسفلہ(ایک محلہ خانہ کعبہ کے حصہ دیوارمستجار کی جانب واقع ہے) کی طر ف کم وبیش چارکلومیٹر پرواقع ہے۔
42 جَبل اَبِیْ قُبَیْس:یہ مقدس پہاڑ بیت اللہ شریف کے بالکل سامنے کوہ صفا کے قریب واقع ہے ۔
43 بابُ الحَذُورَہ:مسجد الحرام میں ایک دروازے کا نام ہے۔
44 جَمْرہ:منیٰ اورمکہ کے بیچ میں تین ستون بنے ہوئے ہیں ان کوجَمْرہ کہتے ہیں ،پھلاجومنیٰ سے قریب ہے جمرہ اولی کھلاتاہے اوربیچ کاجمرہ وسطی اوراخیرکامکہ معظمہ سے قریب ہے جمرۃ العُقْبیٰ کھلاتاہے۔