اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰن پاک میں اِرشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو! بَہُت گُمانوں سے بچو بےشک کوئی گُمان گناہ ہو جاتا ہے۔(پ۲۶،الحجرٰت:۱۲)
حضرت علامہ عبداللہ ابو عُمَر بن محمد شیرازی بَیضاوی علیہ رحمۃاللہ الھادی
(اَ لْمُتَوَفّٰی ۷۹۱ھ) کثرتِ گُمان سے مُمَانَعَت کی حِکمت بیان کرتے ہوئے تفسیر بیضاوی میں لکھتے ہیں:''تاکہ مسلمان ہر گُمان کے بارے میں مُحْتَاط ہوجائے اور غور وفِکْر کرے کہ یہ گُمان کس قبیل سے ہے ۔''
(تفسیر بیضاوی،پ۲۶،الحجرٰت،تحت الآیۃ۱۲،ج۵،ص۲۱۸)
اس آیت کریمہ میں بعض گُمانوں کو گناہ قرار دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اِمام فخرُالدین رازِی علیہ رحمۃاللہ الھادی (اَ لْمُتَوَفّٰی۶۰۶ھ)لکھتے ہیں:''کیونکہ کسی