میں سُن کر اسے کھلا دوں، وَاللہ! میں تو اسے نہیں کھلاؤں گا ۔'' وہ فقیر دُعا سے فارغ ہوکر ایک کونے میں سورہا۔ کچھ دیر بعد ایک شخص ڈھکا ہو اطُبَاق لے کر آیا اور دائیں بائیں دیکھتا ہوا فقیرکے پاس گیا اور اسے جگانے کے بعد وہ طُباق بصد عاجزی اس کے سامنے رکھ دیا۔ تاجِر نے غور سے دیکھا تو یہ وُہی کھانے تھے جن کے لئے فقیر نے دُعا کی تھی ۔ فقیر نے حسب ِ خواہِش اس میں سے کھایا اور بقیہ واپس کردیا ۔
تاجِر نے کھانا لانے والے کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھا :''کیا تم اِنہیں پہلے سے جانتے ہو ؟''کھانا لانے والے نے جواب دیا:''بخدا! ہرگز نہیں ، میں ایک مزدور ہوں میری زوجہ اور بیٹی سال بھر سے ان کھانوں کی خواہش رکھتی تھیں مگر مہیا نہیں ہوپاتے تھے ۔آج مجھے مزدوری میں ایک مِثْقَال(یعنی ساڑھے چار ماشے) سونا ملا تو میں نے اس سے گوشت وغیرہ خریدا اور گھر لے آیا۔ میری بیوی کھانا پکانے میں مصروف تھی کہ اس دوران میری آنکھ لگ گئی۔آنکھیں تو کیا سوئیں ،سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی ،مجھے خواب میں حضور سرورِ عالم ،نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا جلوہ زیبا نظر آگیا ،میں نظارہ محبوب میں گم تھا کہ لَبْہَائے مُبَارَکَہ کو جُنْبِش ہوئی ،رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور اَلفاظ کچھ یوں ترتیب پائے : ''آج تمہارے علاقے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک ولی آیا ہوا ہے ،اُس کا قِیام مسجِد