| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
اَمیرالمؤمنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا:'' اے لوگو !یقینا اللہ عزوجل نے تمہیں دنیا اس لئے عطا فرمائی ہے کہ تم اس کے ذریعے آخرت کی تیاری کرو،اس لئے عطانہیں فرمائی کہ تم اس کی طرف جھک جاؤ،۔۔۔۔۔۔کیونکہ دنیاتوفانی ہے اورآخرت باقی رہنے والی ،۔۔۔۔۔۔توکہیں فانی تمہیں اپنی طرف نہ کھینچ لے اورباقی رہنے والی سے غافل کردے،۔۔۔۔۔۔تم فانی ہونے والی( دنیا) پرباقی رہنے والی (آخرت) کوترجیح دو،۔۔۔۔۔۔ یقینا دنیا ختم ہوکررہے گی ،۔۔۔۔۔۔اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ہی لوٹ کرجانا،۔۔۔۔۔۔ اللہ عزوجل سے ڈرتے رہوکیونکہ خوفِ خدا عزوجل ،عذاب کے آگے ڈھال اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ ہے ۔''
حضرت سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:''اے لوگو!مجھے تم پرسب سے زیادہ خوف لمبی امیدوں، اورنفسانی خواہشات کی پیروی کاہے،۔۔۔۔۔۔ کیونکہ لمبی امیدیں آخرت کو بھلادیتی ہیں اورنفسانی خواہشات کی پیروی حق سے بھٹکا دیتی ہے ،۔۔۔۔۔۔خبردار !بے شک دنیا پیٹھ پھیر نے والی ہے اوریقینا آخرت آنے والی ہے،۔۔۔۔۔۔ اور ان دونوں ہی کے چاہنے والے ہیں ،۔۔۔۔۔۔پس تم آخرت کے چاہنے والے بنواور دنیا کے چاہنے والے نہ بنو،۔۔۔۔۔۔آج عمل ہے حساب نہیں اورکل ( قیامت میں)حساب ہوگا،عمل کا موقع نہیں ہوگا ۔''