Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
65 - 82
    حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ سرورِذیشان ،رحمتِ عالمیان ، نبی غیب دان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ غیب نشان ہے:''دومومن جنت کے دروازے پر ملاقات کریں گے ،جن میں سے ایک دنیا میں غنی(یعنی مالدار) تھا اور دوسرا فقیر(یعنی غریب)۔فقیرکو جنت میں داخل کردیا جائے گااور غنی کو جب تک اللہ عزوجل چاہے گا روک دیاجائے گا ۔پھر اُسے بھی جنت میں داخل کردیاجائے گا ۔ جب فقیر اس سے ملے گاتو پوچھے گا :''اے بھائی!کس چیز نے تجھے (اتنی دیرتک)روک دیا، اللہ عزوجل کی قسم!تجھے اتنی دیرتک روکاگیاحتی کہ میں تیرے بارے میں خوف کرنے لگا۔'' غنی جواب دے گا:''اے میرے بھائی !تمہارے بعد مجھے انتہائی تکلیف دہ اور ناپسندیدہ رکاوٹ کاسامناتھااورتم تک پہنچتے پہنچتے (روکے جانے کے سبب)میرا اتنا پسینہ نکلا کہ اگر اُس کو نمکین اور کڑوی بوٹی چرنے والے ایک ہزار پیاسے اونٹ پینے کے لئے اترتے تو سیراب ہوجاتے ۔''
(المسنداحمدبن حنبل،مسندعبداللہ بن العباس،الحدیث:۲۷۷۱،،ج۱،ص۶۵۲)
بعض الفاظِ حدیث کے معانی:
    مذکورہ حدیث پاک کے عربی متن میں یہ لفظ''مَحْبَس''حَبْس کے معنی میں ہے یعنی روکنااور ''حَمْض''ایک بوٹی کانام ہے جس کا ذائقہ کڑواہوتا ہے اور یہ اونٹوں کے لئے ایسی ہی (لذیذ)ہے جیسے انسان کے لئے پھل کیونکہ اونٹ جب میٹھی بوٹی چرنے سے اُکتا جاتا ہے تواس بوٹی(یعنی حَمْض)کوکھانے کی خواہش کرتا ہے اوراس کی طرف ہوجاتاہے پس جب ''حَمْض'' چر لیتا ہے تو اس کے اوپرپانی پیتا ہے ۔
Flag Counter