Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
30 - 303
ہے کہ توبہ کرنے والا نوجوان اللہ عزوجل کا محبو ب ہے اورادھیڑ عمر ی میں گناہ کرنے والوں کو جھنجھوڑرہی ہے کہ اللہ عزوجل ان کی تو بہ قبول فرمالے گا اور اظہارِندامت کرنے والے بوڑھوں کو آوازدے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی محبت میں ٹوٹنے والے دلوں کے قریب ہے۔
نور کا چراغ:
    مروی ہے کہ'' جب بندہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں کامل توبہ کرتاہے اور رات میں اپنے رب عزوجل سے مُناجات کرتاہے توفرشتے نور کا ایک چراغ روشن کر کے زمین وآسمان کے درمیان لٹکا دیتے ہیں۔دیگر فرشتے پوچھتے ہیں:'' یہ کیا ہے ؟ ''تو ان سے کہاجاتاہے کہ فلاں بن فلاں نے آج کی رات اپنے رب عزوجل کے ساتھ راضی ہوکر گزاری ہے۔
جسمانی اعضاء کی گفتگو:
     سَرکارِ مدینہ،رَاحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ''جب بندہ رات میں عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اسکے اعضاء خوش ہوکر ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ ہمارارفیق اللہ عزوجل کی بندگی کے لئے کھڑا ہواہے۔''
رحمتوں کی برسات :
    حضرت سیدنااحمد بن ابوالحواری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدناابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا تو انہیں روتے ہوئے پایا ۔میں نے ان سے پوچھا کہ'' کس چیز نے آپ کو رُلایا؟'' کہنے لگے: جب رات کی تاریکی اپنی چادر بچھا دیتی ہے تواہل ِمحبت قیام (یعنی نماز)میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ان کے آنسو رکوع اور سجدہ کی حالت میں ان کے رخساروں پر بہہ رہے ہوتے ہیں ۔ پھر جب اللہ جل جلالہ ان پر نگاہِ کرم کرتاہے توارشاد فرماتاہے ،''اے جبرئیل (علیہ السلام)!میرے
Flag Counter