| آنسوؤں کا دریا |
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ''کہ حافظ قرآن کو چاہے کہ وہ اپنی رات کی وجہ سے پہچانا جائے جبکہ لوگ سو رہے ہوں اور دن کی وجہ سے پہچانا جا ئے جبکہ لوگ کھا پی رہے ہوں اور غمزدہ ہو جبکہ لوگ خوش ہوں اور وہ رورہاہو جبکہ لوگ ہنس رہے ہوں اور خاموش ہو جبکہ لوگ باہم اُلجھ رہے ہوں اور وہ خشوع میں ہو جبکہ لوگ مغرور ہوں ،حافظ قرآن میں یہ خوبیاں بھی ہونی چاہیں کہ وہ بد اخلاق نہ ہو،غافل نہ ہو ،شور نہ کرے،نہ سخت مزاج ہو اورنہ دھتکارنے والا ہو ۔''
پانچ باتوں کوغنیمت جانو:
بعض بزرگو ں نے فرمایا :''اپنی زندگی میں پانچ چیزو ں کو غنیمت جانو ۔ (۱) اگر موجود رہو تو پہچانے نہ جاؤ ۔ (۲)اگر غائب رہو تو تلاش نہ کئے جاؤ۔ (۳)اگر حاضر رہو تو تم سے مشورہ نہ کیا جائے۔ (۴)اگر تم کوئی بات کہو تو اس کو قبول نہ کیا جائے ۔ (۵)اگر تم کوئی اچھاعمل کربیٹھو توخودپسندی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ مزید پانچ چیزوں کی وصیت کرتے ہیں۔ (۱)اگرتم پر ظلم ہو تو تم ظلم نہ کرو۔ (۲)اگر تمہاری تعریف کی جائے توتم خوش نہ ہو۔ (۳)اگر تمہاری برائی بیان کی جائے تو تم پریشان نہ ہو۔ (۴)اگر تمہیں جھٹلایا جائے تو تم غصے میں نہ آؤ۔ (۵)اگر تمہارے ساتھ خیانت ہوجائے تو تم خیانت نہ کرو۔''