نہ کیاتھا بلکہ کسی غیر کے ارادے سے یہ عمل کئے تھے، لہذااس پر میری اور زمین وآسمان والوں کی لعنت ہے ۔'' تمام فرشتے عرض کرتے ہیں :''جب اس پر تیری لعنت ہے تو ہماری بھی لعنت ہے ۔'' اور تمام آسمان والے کہتے ہیں :'' اس پر اللہ عزوجل کی لعنت ہے تو ہماری بھی لعنت ہے۔'' اور ساتو ں آسمان اور ان میں رہنے والے اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔''
حضرت سیدنامعا ذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ،میں نے عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!آپ تو اللہ عزوجل کے رسولِ مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، میں تو معاذ ہوں۔''اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:'' میری پیروی کرو اگرچہ تمہارا عمل ناقص ہی کیوں نہ ہواور قرآن کے محافظین (یعنی علماء،قراء اور حفاّظ) کے معاملے میں پڑنے سے اپنی زبان قابو میں رکھواور اپنے گناہ اٹھاؤ ،دو سروں کے گناہ اپنے سر نہ لو اور ان کی مذمت کر کے خود کو پاک ظاہر نہ کرو اور ان کوبرا نہ کہواور آخرت کے معاملے میں دنیا کو پیشِ نظر نہ رکھو اورا پنی مجلس میں لوگوں پر تکبر نہ کرو کہیں لوگ تمہاری بداخلاقی سے نہ ڈرنے لگیں اور غیر کی موجودگی میں کسی سے مزاح نہ کرو اور لو گوں پربڑائی اختیار نہ کرو کہیں تم سے دنیاوآخرت کی بھلائیاں سلب نہ کرلی جائیں اور اپنی زبان سے لوگوں کا گو شت مت نوچو ،کہیں جہنم کے کتے قیامت کے دن تمہیں جہنم میں چیر پھاڑ نہ دیں۔
اللہ عزوجل فرماتاہے: