| آنسوؤں کا دریا |
کیا ملا؟''فرمایا:'' بیٹا! مہربان سے مہربانی کے سوا اور کیا ملتا ہے ، اللہ عزوجل نے غیبت کے علاوہ ہر چیز میں مجھ پرنرمی فرمائی، جب سے میں نے دنیا چھوڑی ہے اب تک غیبت کی وجہ سے قید میں ہوں، اب تک میرا یہ گناہ معاف نہیں ہوا ،بیٹا ! میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ غیبت اور چغل خوری سے بچتے رہنا کیونکہ میں نے برزخ میں ہی غیبت سے زیادہ کسی چیز پر پکڑ یعنی مواخذہ ہوتے نہیں دیکھا یہ کہہ کر وہ مجھ سے رخصت ہوگئے ۔'' اشعار
یَمُوْتُ کُلُّ الْاَنَامِ طُرًّا مِنْ صَالِحٍ کَانَ اَوْ خَبِیْثٍ فَمُسْتَرِ یْحٌ وَّمُستَرَاحٌ مِنْہُ کَمَا جَاءَ فِیْ الْحَدِیْثِ
ترجمہ:(۱)ہر انسان کو مرناہے خواہ نیک ہویا بد ۔
(۲)مرنے والایاتو راحت پانے والاہوگایالوگ(اس کی موت سے) راحت پائیں گے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے۔غیبت کے سبب اعمال ضائع ہوگئے:
حضرتِ سَیِّدُنا سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب بندے کو لایا جائے گا اور اسے اعمال نامہ پکڑا دیاجائے گا تو وہ اس میں اپنی نمازیں ، روزے اورد یگر نیک اعمال نہ پائے گا تو عرض کریگا:'' یارب عزوجل ! یہ کسی اور کا اعمال نامہ ہے، میں نے بہت سی نیکیاں کی تھیں وہ اس میں درج نہیں ہیں ۔ ''تو اس سے کہا جائے گا :'' تیرا رب عزوجل نہ تو غلطی کرتاہے نہ ہی بھولتا ہے تیرے نیک اعمال لوگو ں کی غیبت کرنے کی وجہ سے ضائع ہوگئے ۔''