منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام کسی نہر کے قریب سے گزرے تو کچھ بچو ں کو اس نہر میں کھیلتے دیکھا ان کے ساتھ ایک نابینا بچہ بھی تھا جسے وہ پانی میں غوطہ دے کر دائیں بائیں بھاگ جاتے اور وہ انہیں تلاش کرتا رہتا مگر کامیاب نہ ہوتا۔ حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام اس کے بارے میں غور وفکر کرنے لگے پھر آپ علیہ السلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس بچے کی بصارت لوٹ آنے کی دعا کی تواللہ عزوجل نے اس بچے کی بینائی لوٹادی ۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں اور بچو ں کو دیکھا تو ایک بچے کو پکڑا کراسے چمٹ گیا اورپانی میں ا س قدر غوطہ دیا کہ وہ مرگیا پھر دوسرے کو پکڑا اور اسے بھی غوطے دیکر قتل کردیا ۔یہ دیکھ کر باقی بچے بھاگ گئے۔ جب حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے یہ معاملہ دیکھا تو بہت حیران ہوئے اور عرض کی :'' یاالٰہی عزوجل ! اے میرے آقا ومولیٰ ! تو ان کی تخلیق کو زیادہ جاننے والا ہے پھر اس بچے کوپچھلی حالت پر لوٹانے اور اس کے معاملہ کی کفایت کرنے کی دعا مانگی۔'' تو اللہ عزوجل نے حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی طرف وحی فرمائی :'' میں تجھ