طرف سے ہے اور میں تجھے نصیحت کرتی ہوں کہ چغلی کرنے سے بچتے رہنا کیونکہ یہ دو قبیلوں میں دشمنی ڈال دیتی ہے ،دو ستو ں کو جدا کردیتی ہے اور لوگو ں کے عیب کی ٹوہ میں رہنے سے بچو کہ کہیں تم بھی عیب دار نہ ہوجاؤ،عبادت میں دکھاوے اور مال خرچ کرنے میں بخل سے بچتے رہنااور دو سروں کے انجام سے سبق حاصل کرنااو رلوگو ں کاجو عمل تمہیں اچھا لگے اس پرعمل کرنااور ان میں جو کام تمہیں برا لگے اس سے بچتے رہنا کیونکہ آدمی کواپنے عیب نظر نہیں آتے ۔''پھر وہ عورت خاموش ہوگئی تومیں نے کہا کہ ''اے دیہاتن ! تجھے خداعزوجل کی قسم !مزید نصیحت کرو ۔'' اس نے پوچھا :'' اے شہری ! کیاتجھے ایک دیہاتی کی باتیں اچھی لگی ہیں؟ ''میں نے کہا:''خدا عزوجل کی قسم ! اچھی لگی ہیں۔'' تو وہ بولی کہ ''بیٹا ! دھوکا دہی سے بچتے رہنا کیو نکہ تو لوگوں سے جو معاملات کرتا ہے دھوکا دینا ان میں سب سے برا ہے ۔ سخاوت، علم، تواضع اورحیا ء کو اپنا لینا اور اب میں تجھے خدا عزوجل کے سپر د کرتی ہوں ،تم پر سلامتی ہوں،اللہ عزوجل تم پر رحم کرے یاد رکھو کہ غیبت کرنا حالت اسلام میں تیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی سخت گناہ ہے ۔''
بعض علماء رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :'' غیبت وضو توڑ دیتی ہے اور روزہ دار کا روزہ بھی غیبت کرنے سے ٹو ٹ جاتاہے ۔''(مگرصحیح قول یہ ہے کہ'' غیبت کی توروزہ نہ گیا اگرچہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیت جاتی رہتی ہے۔''بہارشریعت،حصہ۵ص۵۸)
اوربعض فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:''غیبت ہوجانے کی صورت میں دوبارہ وضوکیاجائے ۔''(یعنی دوبارہ وضوکرنا مستحب ہے۔بہارشریعت،حصہ۲ص۱۳)