Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
233 - 303
چاہتا ہے ،کیا تو نہیں جانتا زانی کی بخشش نہ ہوگی اور اسے منہ کے بل جہنم میں دھکیل دیا جائے گا،جہنم کی آگ کبھی نہ بجھے گی اور نہ ہی فناہوگی مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ عزوجل تجھ پر ایسا غضب فرمائے گا کہ پھر کبھی تجھ سے راضی نہ ہو گا۔ ''

    جب اس کے نفس نے اسے مزیدورغلایا تو وہ عابدبولا :'' میں تجھے دنیا کی ہلکی آگ پر پیش کرتا ہوں اگر تو نے اسے بر داشت کرلیا تو تجھے آج رات اس عورت سے نفع اٹھانے دوں گا۔'' پھر اس نے چراغ میں تیل بھرا اوراس کی بتی کو بڑا کردیا۔ وہ عورت بھی یہ سب باتیں سن رہی تھی اور عابد کا عمل دیکھ رہی تھی ۔پھر اس عابدنے اپنا ہاتھ بتی پر رکھا تو اس نے ہاتھ نہ جلایا تو وہ بتی سے بولا :'' کیا ہوا جلاتی کیوں نہیں ؟'' تو آگ نے اس کا انگوٹھا جلادیا پھر اس کی انگلیاں اورپھر اس کا ہاتھ جلا ڈالا۔ اس پر عورت نے ایک زوردار چیخ ماری اور دنیا سے رخصت ہوگئی ۔

     اس عابدنے اسے اسی کے کپڑو ں سے ڈھانپ دیا۔جب صبح ہوئی تو ابلیس ملعون نے چیخ کر لوگو ں سے کہا :'' اے لوگو ! عابد نے فلاں شخص کی فلاں بیٹی سے زنا کر کے اسے قتل کردیا ہے ۔''تو بادشاہ اپنے لشکر اوررعایا کے ساتھ سوار ہوکر آیا۔ جب وہ اس عبادت خانے کے قریب پہنچا تو چلاکر عا بد کو پکارا۔ عابد نے پکار کا جواب دیا توبادشاہ نے پوچھا کہ ''فلاں کی بیٹی کہاں ہے؟''عابد نے کہا:''وہ میرے پاس ہی ہے ۔''با دشاہ بولا :'' اسے میرے پاس بھیجو ۔''عا بد بولا :'' وہ تو مرچکی ہے۔'' با دشا ہ بولا :''جب وہ زناپرراضی نہ ہوئی تو تُو نے اسے قتل کردیا ؟''پھر اس عورت کو وہاں سے اٹھالیا گیااور عابد کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔وہ لوگ زانی کو آرے سے کاٹ دیاکرتے تھے ۔اس عابد کا ہاتھ آستین میں چھپا ہو اتھا وہ انہیں اپنا قصہ نہیں بتا رہا تھا۔