Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
214 - 303
سے اس کی طر ف متوجہ ہوگیاجوغیرکی محبت ختم کردیتی ہے۔

    (۵)اس کے اعضاء نے محبت الٰہی عزوجل سے خوب فیض حاصل کیاکیونکہ اس نے اپنے اعضاء کونفع بخش محبت کے ساتھ خاص کیاتھا۔

    (۶)اس پرکتنی ہی ایسی تاریک راتیں گزریں جب لوگ محوِخواب ہوتے تویہ اس اندھیرے میں دردسے آہ وزاری کررہاہوتا۔

    (۷)وہ اپنی دعاؤں میں عرض کرتاہے:اے میرے آقا! بہتے ہوئے آنسوآنکھ کو خوش بخت بنارہے ہیں۔

    (۸)بے شک میں تیری پناہ میں ایاتومیری اشک باری پر رحم فرمااورگناہوں کی ذلت سے بھی تیری ہی پناہ طلب کرتاہوں ۔

    (۹)اے وہ ذات!جس کی بارگاہِ عزت کے لئے میں عاجزی وانکساری کرتاہوں، تیرے سواکون مجھے لغزشوں سے بچانے والاہے۔

    (۱۰)تومجھ پراحسان کرتے ہوئے میری توبہ قبول فرماتاکہ اس کے باعث پرسکون زندگی گزار وں،کیونکہ میں اپنے ہاتھوں کئے گئے جرائم سے خوف میں مبتلاء ہوں۔

    (۱۱)اے وہ ذات جس کی محبت میری نس نس میں بسی ہوئی ہے ، دردِمحبت بڑھتاجارہا ہے اب ملاقات نہ ہونے پرصبرنہیں ہوسکتا۔(یعنی مجھے موت دے کراپنے دیدارکاشرف عطافرما)

    (۱۲)تیری محبت میں مستغرق ہوجانے والاوہ شخص جوطویل عرصے تک شہوات کے جام انڈیلتارہاہواب اُسے تیری ملاقات کے بغیرکیسے صبرہوسکتاہے ۔

    (۱۳)محبت کی صداقت یوں ظاہرہوگئی جیسے دیکھنے والوں پررات میں ستارے ظاہر ہوجاتے ہیں۔

    (۱۴)کامیابی آقا سے محبت ہی میں ہے ، اس راہِ محبت میں محب جب بھی تواضع کرتا ہے اس کوبلندیاں نصیب ہوتی ہیں۔