Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
82 - 414
		(۱۹)پانچ ہزار فرشتے میدانِ جنگ میں
جنگ بدر کفر و اسلام کا مشہور ترین معرکہ ہے۔ ۱۷ رمضان   ۲ ؁ھ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام ''بدر'' میں یہ جنگ ہوئی۔ اس لڑائی میں تعداد اور اسلحہ کے لحاظ سے مسلمان بہت ہی کمتر اور پست حالی میں تھے۔ مسلمانوں میں بوڑھے، جوان اور بچے اور انصار و مہاجرین کل مل کر تین سو تیرہ مجاہدین اسلام علم نبوی کے زیرِ سایہ کفار کے ایک عظیم لشکر سے نبرد آزما تھے۔ سامانِ جنگ کی قلت کا یہ عالم تھا کہ پوری اسلامی فوج میں چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ اور کفار کا لشکر تقریباً ایک ہزار نہایت ہی جنگجو اور بہادروں پر مشتمل تھا اور ان بہادروں کے ساتھ ایک سو بہترین گھوڑے، سات سو اونٹ اور قسم قسم کے مہلک ہتھیار تھے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی گھبراہٹ اور بے چینی ایک قدرتی بات تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر جاگ کر خدا عزوجل سے لو لگائے مصروف دعاتھے کہ

''الٰہی ! اگر یہ چند نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والے نہ رہیں گے۔''
   (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، مناشدۃ الرسول ربہ النصر،ج۱، ص ۵۵۴ ،ملخصاً)
    دعا مانگتے ہوئے آپ کی چادر مبارک دوشِ انور سے زمین پر گر پڑی اور آپ پر رقت طاری ہو گئی۔ یہاں تک کہ آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے یار غار تھے۔ آپ کو اس طرح بے قرار دیکھ کر اُن کے دل کا سکون و قرار جاتا رہا۔ انہوں نے چادر مبارک کو اٹھا کر آپ کے مقدس کندھے پر ڈال دیا اور آپ کا دست مبارک تھام کر بھرائی ہوئی آواز میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ حضور اب بس کیجئے۔ اللہ تعالیٰ ضرور اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ اپنے یار غار صدیق جاں نثار(رضی اللہ عنہ )کی گزارش مان کر آپ نے دعا ختم کردی اور نہایت اطمینان کے ساتھ پیغمبرانہ لہجے میں یہ فرمایا کہ:۔
Flag Counter