Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
81 - 414
ایک مرتبہ حضرت خواجہ جعفر خالدی علیہ الرحمۃ کی زیارت کو گئے اور گھر میں یہ کہہ گئے تھے کہ میرے لئے تنور میں مرغی بھون کر تیار رکھی جائے۔ حضرت خواجہ جعفر خالدی علیہ الرحمۃ نے ان کو حکم دیا کہ تم رات میرے یہاں بسر کرو۔ مگر ان کا دل چونکہ مرغی میں لگا ہوا تھا اس لئے کوئی خوبصورت بہانہ کر کے یہ اپنے گھر روانہ ہو گئے۔ حضرت خواجہ جعفر کے دل پر اس کا ملال گزرا۔ اس کی نحوست کا یہ اثر ہوا کہ جب خواجہ ابوالحسن ہمدانی دستر خوان پر مرغی کھانے کے لئے بیٹھے اور ذرا سی غفلت ہوئی تو ایک کتا گھر میں آگیا اور مرغی لے کر بھاگا اور اس کو ایک گندی نالی میں ڈال دیا۔ حضرت خواجہ ابوالحسن ہمدانی جب صبح کو حضرت خواجہ جعفر خالدی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو دیکھتے ہی فرمایا کہ جو شخص مشائخ کرام کی قلبی خواہش کا احترام نہیں کرتا، اس پر اسی طرح ایک کتا مسلط کردیا جاتا ہے جو اس کو ایذاء دیتا ہے۔ یہ سن کر خواجہ ابوالحسن ہمدانی شرم و ندامت سے پانی پانی ہو گئے۔
 (روح البیان،ج۲،ص۴۶،پ۳،آل عمران: ۶۳)
بلخ کا ہر آدمی جھوٹا ہو گیا:۔
حضرت خواجہ ابو علی دقاق علیہ الرحمۃ کا بیان ہے کہ جب بلخ والوں نے بلاقصور حضرت خواجہ محمد بن فضل قدس سرہ کو شہر بدر کردیا تو آپ نے شہر والوں کو یہ بددعا دی کہ یا اللہ ان لوگوں کوسچائی کی توفیق نہ دے۔ اس کا یہ انجام ہوا کہ برسوں تک اس شہر میں کوئی سچا آدمی باقی نہ رہا اور شہر کا ہر آدمی بلا کا جھوٹا ہو گیا اور یہ جھوٹوں کا شہر کہلانے لگا۔
 (روح البیان،ج۲،ص۴۶،پ۳،آل عمران: ۶۳)
بہرحال بزرگوں کو اپنی کسی حرکت سے کبھی ناراض نہیں کرنا چاہے ورنہ ان بزرگوں کے قلب کا ادنیٰ سا غبار قہرِ الٰہی کی آندھی بن کر ،تمہیں ہلاکت و بربادی کے غار میں گرا کر، نیست و نابود کردے گا۔
			خدا کا قہر ہے اُن کی نگاہ کی گردش

 			گرا جو اُن کی نظر سے سنبھل نہیں سکتا
Flag Counter