چار ہزار برس کے طویل زمانے سے اس بابرکت پتھر پر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے مبارک قدموں کے نشان موجود ہیں۔ اس طویل مدت سے یہ پتھر کھلے آسمان کے نیچے زمین پر رکھا ہوا ہے۔ اس پر چار ہزار برساتیں گزر گئیں، ہزاروں آندھیوں کے جھونکے اس سے ٹکرائے بارہا حرم کعبہ میں پہاڑی نالوں سے برسات میں سیلاب آیا اور یہ مقدس پتھر سیلاب کے تیز دھاروں میں ڈوبا رہا، کروڑوں انسانوں نے اس پر ہاتھ پھیرا مگر اس کے باوجود آج تک حضرت خلیل علیہ السلام کے جلیل القدر قدموں کے نشان اس پتھر پر باقی ہیں جو بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک بہت ہی بڑا اور نہایت ہی معظم معجزہ ہے۔ اور یقینا یہ پتھر خداوند قدوس کی آیات بینات اور کھلی ہوئی روشن نشانیوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے۔ اور اس کی شان کا یہ عظیم الشان نشان ہر مسلمان کے لئے بہت بڑی عبرت کا سامان ہے کہ خداوند قدوس نے تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ تم لوگ میرے مقدس گھر خانہ کعبہ کے طواف کے بعد اسی پتھر کے پاس دو رکعت نماز ادا کرو۔ تم لوگ نماز تو میرے لئے پڑھو اور سجدہ میرا ادا کرولیکن مجھے یہ محبوب ہے کہ سجدوں کے وقت تمہاری پیشانیاں اس مقدس پتھر کے پاس زمین پر لگیں کہ جس پتھر پر میرے خلیل جلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کا نشان بنا ہوا ہے۔
درس ہدایت:۔مسلمانو!مقام ابراہیم کی عظمت شان سے یہ سبق ملتا ہے کہ جس جگہ اللہ کے مقدس بندوں کا کوئی نشان موجود ہو وہ جگہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت زیادہ عزت و عظمت والی ہے اور اس جگہ خدا کی عبادت خدا کے نزدیک بہت ہی بہتر اور محبوب تر ہے۔
اب غور کرو کہ مقام ابراہیم جب حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے قدموں کے نشان کی وجہ سے اتنا معظم و مکرم ہو گیا تو خدا کے محبوب اکرم اور حبیب معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور کی عظمت و بزرگی اور اس کے تقدس و شرف کا کیا عالم ہو گا کہ جہاں حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم