Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
68 - 414
ہوں گی۔ چنانچہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جب کسی مسئلہ کا حل میرے لئے مشکل ہوجاتا تھا تو میں بغداد جا کر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر مبارک کے پاس بیٹھ کر اپنے اور خدا کے درمیان امام ممدوح کی مبارک قبر کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتا تھا تو میری مراد بر آتی تھی اور مسئلہ حل ہوجایا کرتا تھا۔
 (الخیرات الحسان، الفصل الخامس والثلاثون فی نادب الائمہ معہ فی مماتہ الخ، ص ۲۳۰)
    (اس قسم کے واقعات کے لئے پڑھیئے ہماری کتاب اولیاء رجال الحدیث و روحانی حکایات)
			(۱۵)مقام ابراہیم
یہ ایک مقدس پتھر ہے جو کعبہ معظمہ سے چند گز کی دوری پر رکھا ہوا ہے۔ یہ وہی پتھر ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ مکرمہ کی تعمیر فرما رہے تھے تو جب دیواریں سر سے اونچی ہو گئیں تو اسی پتھر پر کھڑے ہو کر آپ نے کعبہ معظمہ کی دیواروں کو مکمل فرمایا۔ یہ آپ کا معجزہ تھا کہ یہ پتھر موم کی طرح نرم ہو گیا اور آپ کے دونوں مقدس قدموں کا اس پتھر پر بہت گہرا نشان پڑ گیا۔ آپ کے قدموں کے مبارک نشان کی بدولت اس مبارک پتھر کی فضیلت و عظمت میں اس طرح چار چاند لگ گئے کہ خداوند قدوس نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں دو جگہ اس کی عظمت کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ ایک جگہ تو یہ ارشاد فرمایا کہ
     فِیْہِ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ
(پ،۴، آل عمران:۹۷)   یعنی کعبہ مکرمہ میں خدا کی بہت سی روشن اور کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور ان نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ''مقام ابراہیم'' ہے اور دوسری جگہ اس پتھر کی عظمت کا اعلان کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ:
وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔   (پ1،البقرۃ:125)
Flag Counter