Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
61 - 414
بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ بولے اسے ہم پر بادشاہی کیوں کر ہوگی؟ اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے۔ بےشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے، اگر ایمان رکھتے ہو ۔
(پ۲،البقرۃ:۲۴۷،۲۴۸)
درسِ ہدایت:۔(۱)اس واقعہ سے جہاں بہت سے مسائل پر روشنی پڑتی ہے ایک بہت ہی واضح درس یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نوازش کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ چاہے تو چھوٹے سے چھوٹے آدمی کو منٹوں بلکہ سیکنڈوں میں بڑے سے بڑا آدمی بنادے۔ دیکھ لو حضرت طالوت ایک بہت ہی کم درجے کے آدمی تھے اور اتنے مفلس تھے کہ یا تو دبگر تھے جو چمڑے کو دباغت دے کر اپنی روزی حاصل کرتے تھے یا بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے مگر لمحہ بھر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں صاحب ِ تخت و تاج بنا کر بادشاہ بنا دیا۔

(۲)اس واقعہ سے اور قرآن مجید کی عبارت سے معلوم ہوا کہ جسمانی توانائی اور علم کی وسعت بادشاہی کے لئے مالداری سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ بغیر جسمانی طاقت اور علم کے نظامِ ملکی کو چلانا اور سلطنت کا انتظام کرنا تقریباً محال اور ناممکن ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ علم کا درجہ مال سے بہت بلند تر ہے۔
 (واللہ تعالیٰ اعلم)
		(۱۳)حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح بادشاہ بنے؟
جب طالوت بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ''جالوت''سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ
Flag Counter