Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
60 - 414
سے سرفراز کئے گئے تو ان کے زمانے میں کوئی بادشاہ نہیں تھا تو بنی اسرائیل نے آپ سے درخواست کی کہ آپ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے تو آپ نے حکم خداوندی کے مطابق ''طالوت''کو بادشاہ بنا دیا جو بنی اسرائیل میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے بڑا عالم تھا۔ لیکن بہت ہی غریب و مفلس تھا۔ چمڑا پکا کر یا بکریوں کی چرواہی کر کے زندگی بسر کرتا تھا۔ اس پر بنی اسرائیل کو اعتراض ہوا کہ طالوت شاہی خاندان سے نہیں ہے لہٰذا یہ کیونکر اور کیسے ہمارا بادشاہ ہوسکتا ہے اس سے زیادہ تو بادشاہت کے حق دار ہم لوگ ہیں کیونکہ ہم لوگ شاہی خاندان سے ہیں۔ پھر طالوت کے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے۔ ایک غریب و مفلس انسان بھلا تختِ شاہی کے لائق کیونکر ہوسکتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ان اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت شمویل علیہ السلام نے یہ تقریر فرمائی کہ:۔

ترجمہ کنزالایمان:۔ فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے۔ اور اللہ وسعت والا علم والا ہے اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے۔
 (پ۲،البقرۃ:۲۴۷،۲۴۸)
چنانچہ تھوڑی ہی دیر کے بعد چار فرشتے صندوق لے کر آگئے اور صندوق کو حضرت شمویل علیہ السلام کے پاس رکھ دیا۔ یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے طالوت کی بادشاہی کو تسلیم کرلیا اور آپ نے بادشاہ بن کر نہ صرف انتظام ملکی سنبھالا بلکہ بنی اسرائیل کی فوج بھرتی کر کے قوم عمالقہ کے کفار سے جہاد بھی فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید میں فرماتے ہوئے اس طرح ارشاد فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ :۔

ترجمہ کنزالایمان:۔اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا کہ بے شک اللہ نے طالوت کو تمہارا
Flag Counter