| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
درسِ ہدایت:۔اس سے ہدایت کا یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کی ہر ہر چیز سے محبت فرماتا ہے اور خدا کے محبوبوں کی ہر ہر چیز قابل عزت و لائق احترام ہے۔ مجاہدین اسلام اور غازیانِ کرام چونکہ خداوند قدوس کے محبوب اور پیارے بندے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کے گھوڑوں سے بھی اس قدر پیار و محبت فرماتا ہے کہ ان گھوڑوں بلکہ ان گھوڑوں کی رفتار اور میدانِ جنگ میں ان گھوڑوں کے حملوں کی قسم یاد فرما کر ان گھوڑوں کی عزت و عظمت کا اعلان فرما رہا ہے۔
سبحان اللہ، سبحان اللہ۔
جب مجاہدین کرام کے گھوڑوں کے بلند درجات کا خطبہ قرآن عظیم نے پڑھا تو اس سے معلوم ہوا کہ مجاہدین کے آلاتِ جنگ اور ان کے ہتھیاروں اور ان کی کمانوں، ان کی تلواروں کا بھی مرتبہ بہت بلند ہے اسی لئے بعض خانقاہوں میں بعض غازیوں کی تلواروں کو لوگوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ تبرک بنا کر برسہا برس سے محفوظ رکھا ہے جو بلاشبہ باعث ِ برکت و لائق ِ عزت و احترام ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۶۸)قریش کے دو سفر
مکہ مکرمہ میں نہ کاشت کاری ہوتی تھی نہ وہاں کوئی صنعت و حرفت تھی۔ پھر بھی قبیلہ قریش کے لوگ کافی خوشحال اور صاحب ِ مال تھے اور خوب دل کھول کر حاجیوں کی ضیافت اور مہمان نوازی کرتے تھے۔ قریش کی خوشحالی اور فارغ البالی کا راز یہ تھا کہ یہ لوگ ہر سال دو مرتبہ تجارتی سفر کیا کرتے تھے۔ جاڑے کے موسم میں یمن اور گرمی کے موسم میں شام کا سفر کیا کرتے تھے اور ہر جگہ کے لوگ انہیں اہل حرم اور بیت اللہ شریف کا پڑوسی کہہ کر ان لوگوں کا اکرام و احترام کرتے تھے اور ان لوگوں کے ساتھ تجارتیں کرتے تھے اور قریش ان تجارتوں میں خوب نفع اٹھاتے تھے۔ اور ان لوگوں کے حرم کعبہ کا باشندہ ہونے کی بناء پر راستہ میں ان کے قافلوں پر کسی قسم کی رہزنی اور ڈکیتی نہیں ہوا کرتی تھی۔ باوجودیکہ اطراف و جوانب میں ہر