ترجمہ کنزالایمان:۔قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اُڑاتے ہیں پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (پ30،العدیت:1۔6)
ان گھوڑوں سے مراد ،مفسرین کا اجماع ہے کہ مجاہدین اور غازیوں کے گھوڑے مراد ہیں جو خداوند قدوس کے دربار میں اس قدر محبوب و محترم ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت حق جل مجدہ نے ان گھوڑوں بلکہ ان کی اداؤں کی قسم یاد فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں کی قسم ہے جو جہاد میں دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو پتھروں پر اپنے نعل والے کھُر مار کر رات کی تاریکی میں چنگاری نکال دیتے ہیں اور مجھے ان گھوڑوں کی قسم ہے جو صبح سویرے کفار پر حملہ کردیتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو میدانِ جنگ میں دوڑ کر غبار اُڑاتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو کفار کے بیچ لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ اتنی قسموں کے بعد رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ''انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔''
اللہ اکبر!خداوند قدوس جن چیزوں کی قسم یاد فرمائے، ان چیزوں کی عظمتِ شان کا کیا کہنا؟ قرآن مجید میں جن جن چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ مجھے ان کی قسم ہے، ان تمام چیزوں کا مرتبہ اتنا بلند و بالا اور اس قدر عظمت والا ہو گیا کہ وہ تمام چیزیں ہم مسلمانوں کے لئے بلکہ ساری کائنات کے لئے معزز و محترم ہو گئیں۔ تو پھر مجاہدین کے گھوڑوں کی عزت و عظمت اور ان کے تقدس و احترام کا کیا عالم ہو گا؟