| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ہوا مرا کہ مجھ کو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قتل کیا ہے۔ اسود بن عبد یغوث کو استسقاء ہو گیا جس سے اس کا پیٹ بہت زیادہ پھول گیا اور وہ اسی مرض میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ہلاک ہو گیا۔ حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ بہنے لگا اور وہ اسی میں مر کر ہلاک ہو گیا۔ اس طرح یہ پانچوں گستاخانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بہت جلد بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر ہلاک ہو گئے۔
(تفسیر صاوی،ج۳، ص ۱۰۵۳۔۱۰۵۲،پ۱۴، الرعد:۹۵)
ان ہی پانچوں گستاخوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی یہ آیت نازل فرمائی:۔
اِنَّا کَفَیۡنٰکَ الْمُسْتَہۡزِءِیۡنَ ﴿ۙ95﴾الَّذِیۡنَ یَجْعَلُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰہًا اٰخَرَ ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوۡنَ ﴿96﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے۔ (پ14،الحجر:95۔96) درسِ ہدایت:۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کے ساتھ طعن و تمسخر، ان کی ایذاء رسانی اور توہین و بے ادبی وہ جرم عظیم ہے کہ خداوند قہار و جبار کا قہر و غضب ان مجرموں کو کبھی معاف نہیں فرماتا۔ ایسے لوگوں کو کبھی غرق کر کے ہلاک کردیا، کبھی ان کی آبادیوں پر پتھر برسا کر ان کو برباد کردیا، کبھی زلزلوں کے جھٹکوں سے ان کی بستیوں کو الٹ پلٹ کر کے تہس نہس کردیا۔ کچھ ذلت کے ساتھ قتل ہو گئے۔ کچھ طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہو کر ایڑیاں رگڑتے رگڑتے اور تڑپتے تڑپتے مر گئے۔ اس زمانے میں بھی جولوگ بارگاہِ نبوت میں گستاخیاں اور بے ادبیاں کرتے رہتے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں کہ ان کے ایمان کی دولت تو غارت ہوہی چکی ہے، اب ان شاء اللہ تعالیٰ وہ کسی نہ کسی عذاب ِ الٰہی میں گرفتار ہو کر ذلت کی موت مرجائیں گے اور دنیا ان کے منحوس وجود سے