کفار قریش کے پانچ سردار (۱)عاص بن وائل سہمی(۲)اسود بن مطلب(۳)اسود بن عبدیغوث (۴)حارث بن قیس (۵)ولید بن مغیرہ۔
یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ ایذائیں دیتے اور آپ کا بے حد تمسخر اور مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ ایک روز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں تشریف لائے تو یہ پانچوں خُبَثَاء بھی پیچھے پیچھے آئے اور حسب عادت تمسخر اور طعن و تشنیع کے الفاظ بکنے لگے اسی حالت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص بن وائل سہمی کے پاؤں کے تلوے کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور اسود بن عبد یغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ کہا کہ میں ان لوگوں کے شر کو دفع کروں گا۔
چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ پانچوں دشمنانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم طرح طرح کی بلاؤں میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو گئے۔ ولید بن مغیرہ ایک تیر بیچنے والے کی دکان کے پاس سے گزرا۔ ناگہاں ایک تیر کا پیکان اس کے تہمد میں چبھ گیا۔ مگر اس کو نکالنے کے لئے اس نے تکبر سے سر نیچا نہ کیا اور کھڑے کھڑے تہبند ہلا ہلا کر پیکان کو نکالنے لگا جس سے اس کی پنڈلی زخمی ہو گئی اور وہ زخم اچھا نہیں ہوا بلکہ اسی زخم کی تکلیف اٹھا اٹھا کر وہ مر گیا۔
عاص بن وائل سہمی کے پاؤں میں ایک کانٹا چبھ گیا جس سے اس کے پاؤں میں زہر باد ہو گیا اور اس کا پاؤں پھول کر اونٹ کی گردن کی طرح موٹا ہو گیا اسی تکلیف میں وہ تڑپ تڑپ کر اور کراہتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔
اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد اٹھا کہ وہ اندھا ہو گیا اور درد کی شدت سے وہ بے قراری میں اپنا سر دیوار سے بار بار ٹکراتا تھا اور اسی درد و کرب کی بے چینی میں وہ مر گیا اور یہ کہتا