| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
وَ اِذْ اَوْحَیۡتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوۡا بِیۡ وَ بِرَسُوۡلِیۡ ۚ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَاشْہَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوۡنَ ﴿111﴾ (پ7،المائدۃ:111)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔ درسِ ہدایت:۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری اگرچہ تعداد میں صرف بارہ تھے مگر یہودیوں کے مقابلہ میں آپ کی نصرت و حمایت میں جس پامردی اور عزم و استقلال کے ساتھ ڈٹے رہے اس سے ہر مسلمان کو دین کے معاملہ میں ثابت قدمی کا سبق ملتا ہے۔ اس قسم کے مخلص احباب اور مخصوص جاں نثار اصحاب اللہ تعالیٰ ہر نبی کو عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ جنگ خندق کے دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ہر نبی کے ''حواری'' ہوئے ہیں اور میرے حواری ''زبیر'' ہیں۔
(مشکوٰۃالمصابیح،کتاب الفتن،باب مناقب العشرۃرضی اللہ عنہم،الفصل الاول،ص۵۶۵)
اور حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ قریش میں بارہ صحابہ کرام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ''حواری'' ہیں جن کے نام نامی یہ ہیں۔ (۱)حضرت ابوبکر (۲)حضرت عمر (۳)حضرت عثمان (۴)حضرت علی (۵)حضرت حمزہ (۶)حضرت جعفر (۷) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (۸)حضرت عثمان بن مظعون (۹)حضرت عبدالرحمن بن عوف (۱۰)حضرت سعد بن ابی وقاص (۱۱)حضرت طلحہ بن عبیداللہ (۱۲)حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ کہ ان مخلص جاں نثاروں نے ہر موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت کا بے مثال ریکارڈ قائم کردیا۔
(تفسیر معالم التنزیل للبغوی،ج۱، ص ۲۳۶،پ۳، آل عمران:۵۲)