ملازم رکھوا دیا تھا۔ ایک دن رنگریز مختلف کپڑوں کو نشان لگا کر چند رنگوں کو رنگنے کے لئے آپ کے سپرد کر کے کہیں باہر چلا گیا۔ آپ نے ان سب کپڑوں کو ایک ہی رنگ کے برتن میں ڈال دیا۔ رنگریز نے گھبرا کر کہا کہ آپ نے سب کپڑوں کو ایک ہی رنگ کا کردیا۔ حالانکہ میں نے نشان لگا کر مختلف رنگوں کا رنگنے کے لئے کہہ دیا تھا ۔آپ نے فرمایا کہ اے کپڑو!تم اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہی رنگوں کے ہوجاؤ، جن رنگوں کا یہ چاہتا تھا۔ چنانچہ ایک ہی برتن میں سے لال، سبز، پیلا، جن جن کپڑوں کو رنگریز جس جس رنگ کا چاہتا تھا وہ کپڑا اسی رنگ کا ہو کر نکلنے لگا۔ آپ کا یہ معجزہ دیکھ کر تمام حاضرین جو سفید پوش تھے اور جن کی تعداد بارہ تھی، سب ایمان لائے یہی لوگ ''حواری''کہلانے لگے۔
حضرت امام قفال علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ ان بارہ حواریوں میں کچھ لوگ بادشاہ ہوں اور کچھ مچھیرے ہوں اور کچھ دھوبی ہوں اور کچھ رنگریز ہوں۔ چونکہ یہ سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص جاں نثار تھے اور ان لوگوں کے قلوب اور نیتیں صاف تھیں اس بناء پر ان بارہ پاکبازوں اور نیک نفسوں کو ''حواری'' کا لقب معزز عطا کیا گیا۔ کیونکہ ''حواری''کے معنی مخلص دوست کے ہیں۔