| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
خدا ہے تو ایک دن سورج کو مغرب سے نکال دے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دلیل سن کر نمرود مبہوت و حیران رہ گیا اور کچھ بھی نہ بول سکا۔ اس طرح یہ مناظرہ ختم ہو گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس مناظرہ میں فتح مند ہو کر دربار سے باہر تشریف لائے اور توحید ِ الٰہی کا وعظ علی الاعلان فرمانا شروع کردیا۔ قرآن مجید نے اس مناظرہ کی روئیداد ان لفظوں میں بیان فرمائی کہ:۔
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنْ اٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْکَ ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحْیٖ وَیُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیۡتُ ؕ قَالَ اِبْرٰہٖمُ فَاِنَّ اللہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ وَاللہُ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿258﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے کہ جلاتا اور مارتا ہے بولا میں جلاتا اورمارتا ہوں ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب سے تو اس کو پچھم سے لے آ تو ہوش اُڑ گئے کافر کے اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو۔ (پ3،البقرۃ:258) درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے چند اسباق کی روشنی ملتی ہے کہ: (۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام خداوند تعالیٰ کی توحید کے اعلان پر پہاڑ کی طرح قائم رہے نہ نمرودکی بے شمار فوجوں سے خائف ہوئے، نہ اس کے ظلم و جبر سے مرعوب ہوئے بلکہ جب اس ظالم نے آپ کو آگ کے شعلوں میں ڈلوادیا اس وقت بھی آپ کے پائے عزم و استقلال میں بال برابر لغزش نہیں ہوئی اور آپ برابر نعرہ توحید بلند کرتے رہے پھر اس بے رحم نے آپ پر دانہ پانی بند کردیا۔ اس پر بھی آپ کے عزم و استقامت میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔ پھر اس نے آپ کو مناظرہ کا چیلنج دیا اور دربارِ شاہی میں طلب کیا تاکہ شاہی رعب و داب دکھا کر آپ