Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
265 - 414
اور آپ کو دربار سے نکال دیا اور ایک دانہ بھی نہیں دیا۔ آپ اور آپ کے چند متبعین جو مومن تھے بھوک کی شدت سے پریشان ہو کر جاں بلب ہو گئے۔ اس وقت آپ ایک تھیلا لے کر ایک ٹیلے کے پاس تشریف لے گئے اور تھیلے میں ریت بھر کر لائے اور خداوند قدوس سے دعا مانگی تو وہ ریت آٹا بن گئی اور آپ نے اس کو اپنے متبعین کو کھلایا اور خود بھی کھایا۔ پھر نمرود کی دشمنی اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈلوا دیا۔ مگر وہ آگ آپ پر گلزار بن گئی اور آپ سلامتی کے ساتھ اس آگ سے باہر نکل آئے اور علی الاعلان نمرود کو جھوٹا کہہ کر خدائے
وحدہ لاشریک لہ
کی توحید کا چرچا کرنے لگے۔ نمرود نے آپ کے کلمہ حق سے تنگ آ کر ایک دن آپ کو اپنے دربار میں بلایا اور حسب ذیل مکالمہ بہ صورت مناظرہ شروع کردیا۔
      			(تفسیر صاوی،ج۱،ص۲۱۹،۲۲۰،پ۳، البقرۃ، : ۲۵۸)
نمرود:اے ابراہیم! بتاؤ تمہارا رب کون ہے جس کی عبادت کی تم لوگوں کو دعوت دے رہے ہو؟

حضرت ابراہیم:اے نمرود! میرا رب وہی ہے جو لوگوں کو جلاتا اور مارتا ہے۔

نمرود: یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں چنانچہ اس وقت اس نے دو قیدیوں کو جیل خانہ سے دربار میں بلوایا ایک کو موت کی سزا ہوچکی تھی اور دوسرا رِہا ہوچکا تھا۔ نمرود نے پھانسی پانے والے کو تو چھوڑ دیا اور بے قصور کو پھانسی دے دی اور بولا کہ دیکھ لو کہ جو مردہ تھا میں نے اس کو جِلادیا اور جو زندہ تھا میں نے اس کو مردہ کردیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ نمرود بالکل ہی احمق اور نہایت ہی گھامڑ آدمی ہے جو ''جِلانے اور مارنے'' کا یہ مطلب سمجھ بیٹھا ،اس لئے آپ نے اس کے سامنے ایک دوسری بہت ہی واضح اور روشن دلیل پیش فرمائی۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا:

حضرت ابراہیم:اے نمرود! میرا رب وہی ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اگر تو
Flag Counter