ایسے مادر زاد اندھے کو جس کے سر میں آنکھیں تھیں ہی نہیں، ہاتھ پھیر دیا تو اس کی پیشانی میں آنکھوں کے دو سوراخ بن گئے۔ پھر ان دونوں صاحبان نے مٹی کے دو غلولے بنا کر ان سوراخوں میں رکھ کر دعا کردی تو یہ دونوں غلولے آنکھیں بن کر روشن ہو گئے اور مادر زاد اندھاانکھیارا بن گیا۔ حضرت شمعون نے فرمایا کہ اے بادشاہ ! کیا تمہارے بتوں میں بھی یہ قدرت ہے؟ بادشاہ نے کہا کہ نہیں تو حضرت شمعون نے فرمایا کہ پھر تم اُس کی عبادت کیوں نہیں کرتے جو ایسی قدرت والا ہے کہ اندھوں کو آنکھیں عطا فرما دیتا ہے۔ یہ سن کر بادشاہ نے کہا کہ کیا تمہارا خدا مردوں کو زندہ کرسکتا ہے؟ اگر وہ مردوں کو زندہ کرسکتا ہے تو ایک مردے کو زندہ کردے جو میرے ایک دہقان کا لڑکا ہے اور وہ کئی روز سے مرا پڑا ہے۔ اور میں نے اُس کے باپ کے انتظار میں ابھی تک اس کو دفن نہیں کیا ہے۔ بادشاہ ان تینوں صاحبان کو لے کر لڑکے کی لاش کے پاس گیا اور ان تینوں صاحبان نے دعا مانگی تو خدا کے حکم سے وہ مردہ زندہ ہوگیا۔ اور بلند آواز سے کہا کہ میں بت پرست تھا تو میں مرنے کے بعد جہنم کی وادیوں میں داخل کیا گیا۔ لہٰذا میں تم لوگوں کو عذابِ الٰہی سے ڈراتے ہوئے اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں اور تم لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلمہ پڑھ کر ان تینوں مبلغین کی بات مان کر ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ تینوں صاحبان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری اور اُن کے فرستادہ ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر اور مردہ کی تقریر سن کر سب کے سب حیران رہ گئے۔ اتنے میں حبیب نجار بھی دوڑتے ہوئے پہنچ گئے اور انہوں نے بھی بادشاہ اور سارے شہر والوں کو مبلغین کی تصدیق کے لئے پرزور تقریر کر کے آمادہ کرلیا۔ یہاں تک کہ بادشاہ اور اُس کے تمام درباریوں نے ایمان کی دعوت کو قبول کرلیا اور سب صاحب ِ ایمان ہو گئے مگر چند منحوس لوگ جو بتوں کی محبت میں عقل و ہوش کھوچکے تھے وہ ایمان نہیں لائے بلکہ حبیب نجار کو قتل کردیا تو ان مردودوں