Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
203 - 414
 (۵۴)حضرت عیسٰی علیہ السلام کے تین مبلغین
''انطاکیہ''ملک شام کا ایک بہترین شہر تھا۔ جن کی فصیلیں سنگین دیواروں سے بنی ہوئی تھیں اور پورا شہر پانچ پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ اور شہر کی آبادی کا رقبہ بارہ میل تک پھیلا ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں میں سے د ومبلغوں کو تبلیغ دین کے لئے اس شہر میں بھیجا۔ ایک کا نام ''صادق''اور دوسرے کا نام ''مصدوق''تھا۔ جب یہ دونوں شہر میں پہنچے تو
ایک بوڑھے چرواہے سے ان دونوں کی ملاقات ہوئی جس کا نام ''حبیب نجار'' تھا۔ سلام کے بعد حبیب نجار نے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں اور مقصد کیا ہے؟ تو ان دونوں صاحبان نے کہا کہ ہم دونوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھیجے ہوئے مبلغین ہیں اور اس بستی والوں کو توحید اور خدا پرستی کی دعوت دینے آئے ہیں تو حبیب نجار نے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس اس کی کوئی نشانی بھی ہے؟ تو ان دونوں نے کہا کہ جی ہاں ہم لوگ مریضوں اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو خداعزوجل کے حکم سے شفا دیتے ہیں۔ یہ ان دونوں کی کرامت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا۔ یہ سن کر حبیب نجار نے کہا کہ میرا ایک لڑکا مدتوں سے بیمار ہے۔ کیا آپ لوگ اس کو تندرست کردیں گے؟ ان دونوں نے کہا کہ جی ہاں !اس کو ہمارے پاس لاؤ۔ چنانچہ ان دونوں نے اس مریض لڑکے پر اپنا ہاتھ پھیر دیا اور وہ فوراً ہی تندرست ہو کر کھڑا ہو گیا۔ یہ خبر بجلی کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی اور بہت سے مریض جمع ہو گئے اور سب شفا یاب بھی ہو گئے۔

اس شہر کا بادشاہ ''انطیخا'' نامی ایک بت پرست تھا وہ ان دونوں کی زبان سے توحید کی دعوت سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیا۔ اور اُس نے دونوں مبلغوں کو گرفتار کر کے سو سو درے لگا کر جیل خانہ میں قید کردیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کے سردار حضرت ''شمعون ''رضی اللہ عنہ کو انطاکیہ بھیجا۔ آپ کسی طرح بادشاہ کے دربار میں پہنچ گئے اور بادشاہ سے کہا کہ آپ نے ہمارے دو آدمیوں کو کوڑے لگا کر جیل خانہ میں قید کردیا ہے۔ کم سے کم آپ ان دونوں کی پوری بات تو سن لیتے۔ بادشاہ نے ان دونوں کو جیل خانہ سے بلوا کر گفتگو شروع کی تو ان دونوں نے کہا کہ ہم یہی کہنے کے لئے یہاں آئے ہیں کہ تم لوگ ان بتوں کی عبادت کو چھوڑ کر خدائے وحدہ، کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تمہارے بتوں کو بھی پیدا کیا ہے۔ جب بادشاہ نے ان دونوں سے کوئی نشانی طلب کی تو ان دونوں صاحبوں نے ایک
Flag Counter