Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
19 - 414
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 حَامِدًا وَّمُصَلِّیًا وَّمُسَلِّمًا
کیوں لکھا؟ اور کیا لکھا؟
ربیع الاول ۱۴۰۰ ؁ھ میں چند مقتدر علماء اہل سنت نے اپنی خواہش بصورت فرمائش ظاہر فرمائی کہ میں قرآن مجید کا ایک ترجمہ سلیس اور عام فہم زبان میں لکھ دوں، اس وقت پہلی بار مجھ پر فالج کا حملہ ہوچکا تھا۔ میں نے جواب میں ان حضرات سے اپنی ضعیفی اور بیماری کا عذر کر کے اس کام سے معافی طلب کرلی۔ اور عرض کردیا کہ اگر چند سال قبل آپ لوگوں نے اس طرف توجہ دلائی ہوتی تو میں ضرور یہ کام شروع کردیتا مگر اب جب کہ ضعیفی کے ساتھ مرض فالج نے میری توانائیوں کو بالکل مضمحل کردیا ہے، اتنا بڑا کام میرے بس کی بات نہیں۔ پھر بعض عزیزوں نے کہا کہ اگر پورے قرآن مجید کا ترجمہ آپ نہیں لکھتے تو ''نوادر الحدیث'' کی طرح قرآن مجید کی چند آیتوں ہی کا ترجمہ اور تفسیر لکھ کر آیتوں کی مناسب تشریح کردیتے تو بہت اچھا اور بے حد مفید علمی کام ہوجاتا۔

 یہ کام میرے نزدیک بہت سہل تھا۔ چنانچہ میں نے توکلاً علی اللہ اس کام کو شروع کردیا۔ مگر ابھی تقریباً ایک سو صفحات کا مسودہ لکھنے پایا تھا کہ ناگہاں ۱۳ دسمبر  ۱۹۸۱؁ کو رات میں سوتے ہوئے فالج کا دوسری مرتبہ حملہ ہوا۔ اور بایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں اس طرح مفلوج ہو گئے کہ ان میں حس و حرکت ہی باقی نہ رہی۔ فوراً ہی بذریعہ جیپ براؤن شریف سے دو طالب علموں کی مدد سے اپنے مکان پر گھوسی آگیااور دو ماہ پلنگ پر پڑا رہا۔ مگرالحمدللہ! کہ بہت جلد خداوند کریم کا فضل عظیم ہو گیا کہ ہاتھ پاؤں میں حس و حرکت پیدا ہو گئی اور تین ماہ کے بعد میں کھڑا ہونے لگا اور رفتہ رفتہ بحمدہ تعالیٰ اس قابل ہو گیا کہ جمعہ و جماعت کے لئے مسجد تک جانے لگا۔ چنانچہ وہ
Flag Counter