Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
179 - 414
بھی باقی نہ رہا۔ آپ کو جب ان چیزوں کے ہلاک و برباد ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ حمد ِ الٰہی کرتے اور شکر بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرا کیا تھا اور کیا ہے جس کا تھا اس نے لے لیا۔ جب تک اس نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا، جب اس نے چاہا لے لیا۔ میں ہر حال میں اس کی رضا پر راضی ہوں۔ اس کے بعد آپ بیمار ہو گئے اور آپ کے جسم مبارک پر بڑے بڑے آبلے پڑ گئے۔ اس حال میں سب لوگوں نے آپ کو چھوڑ دیا، بس فقط آپ کی بیوی جن کا نام ''رحمت بنت افرائیم'' تھا۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی تھیں، آپ کی خدمت کرتی تھیں۔ سالہا سال تک آپ کا یہی حال رہا، آپ آبلوں اور پھوڑوں کے زخموں سے بڑی تکلیفوں میں رہے۔

فائدہ:۔عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ معاذ اللہ آپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں میں آپ کے کوڑھ کے بارے میں بہت سی غیر معتبر داستانیں بھی تحریر ہیں، مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں سرتا پا بالکل غلط ہیں اور ہر گز ہر گز آپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا۔ اس لئے کہ یہ مسئلہ متفق علیہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا تمام ان بیماریوں سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث نفرت و حقارت ہیں۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ تبلیغ و ہدایت کرتے رہیں تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیونکر ادا ہو سکے گا؟ الغرض حضرت ایوب علیہ السلام ہرگز کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ آپ کے بدن پر کچھ آبلے اور پھوڑے پھنسیاں نکل آئی تھیں جن سے آپ برسوں تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔ پھر آپ نے بحکم الٰہی اپنے رب سے یوں دعا مانگی:۔
اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿ۚۖ83﴾ (پ17،الانبیاء:83)
ترجمہ کنزالایمان:۔ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے۔
Flag Counter