| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کہا کہ پھر خدا ہی سے اپنی حاجت عرض کیجئے تو آپ نے جواب دیا کہ وہ میرے حال کو خوب جانتا ہے۔ لہٰذا مجھے اُس سے سوال کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر شریف سولہ یا بیس برس کی تھی۔ آپ کتنی دیر تک آگ میں رہے؟:۔اس بارے میں کہ آپ کتنی مدت تک آگ کے اندر رہے، تین اقوال ہیں۔ (۱)بعض مفسرین کا قول ہے کہ سات دنوں تک آپ آگ کے شعلوں میں رہے۔ (۲)اور بعض نے یہ تحریر کیا ہے کہ چالیس دن رہے ۔ (۳)اور بعض کہتے ہیں کہ پچاس دن تک آپ آگ میں رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
(صاوی، ج۴،ص۱۳۰۷،پ ۱۷،الانبیاء:۶۸)
درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے ان لوگوں کو تسلی ملتی ہے جو باطل کی طاغوتی طاقتوں کے بالمقابل استقامت کا پہاڑ بن کر ڈٹ جاتے ہیں۔
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
(۴۵)حضرت ایوب علیہ السلام کا امتحان
حضرت ایوب علیہ السلام حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی والدہ حضرت لوط علیہ السلام کے خاندان سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا۔ حسن صورت بھی اور مال و اولاد کی کثرت بھی، بے شمار مویشی اور کھیت و باغ وغیرہ کے آپ مالک تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش و امتحان میں ڈالا تو آپ کا مکان گر پڑا اور آپ کے تمام فرزندان اس کے نیچے دب کر مر گئے اور تمام جانور جس میں سینکڑوں اُونٹ اور ہزارہا بکریاں تھیں، سب مر گئے۔ تمام کھیتیاں اور باغات بھی برباد ہو گئے۔ غرض آپ کے پاس کچھ