| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
استقبال کے لئے آئے ہوئے ہیں آپ کو متعجب دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی ذرا سر اٹھا کر فضائے آسمانی میں نظر فرمایئے کہ آپ کے سرور و شادمانی میں شرکت کے لئے ملائکہ کا جمِ غفیر حاضر ہے جو مدتوں آپ کے غم میں روتے رہے ہیں۔ ملائکہ کی تسبیح اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور طبل و بوق کی آوازوں نے عجیب سماں پیدا کردیا تھا۔ جب باپ بیٹے دونوں قریب ہو گئے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے سلام کا ارادہ کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ذرا توقف کیجئے اور اپنے پدر بزرگوار کو اُن کے رقت انگیز سلام کا موقع دیجئے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان لفظوں کے ساتھ سلام کہا کہ
''اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُذْھِبَ الْاَحْزَانِ''
یعنی اے تمام غموں کو دور کرنے والے آپ پر سلام ہو۔ پھر باپ بیٹوں نے نہایت گرمجوشی کے ساتھ معانقہ کیا اور فرط مسرت میں دونوں خوب روئے۔ پھر ایک استقبالیہ خیمہ میں تشریف لے گئے جو خوب مزین اور آراستہ کیا گیا تھا۔ وہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر جب شاہی محل میں رونق افروز ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے سہارا دے کر اپنے والد ِ محترم کو تختِ شاہی پر بٹھایا۔ اور اُن کے اردگرد آپ کے گیارہ بھائی اور آپ کی والدہ سب بیٹھ گئے اور سب کے سب بیک وقت حضرت یوسف علیہ السلام کے آگے سجدے میں گر پڑے۔ اُس وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ِ بزگوار کو مخاطب کر کے یہ کہا:
یاَ بَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبْلُ ۫ قَدْ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَقَدْ اَحْسَنَ بِیۡۤ اِذْ اَخْرَجَنِیۡ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الْبَدْوِ مِنۡۢ بَعْدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَ اِخْوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَلِیۡمُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی بیشک