مصر چلے آؤ۔
بڑا بھائی یہودا کہنے لگا کہ یہ کرتا میں لے کر جاؤں گا کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا بکری کے خون میں رنگ کر میں ہی اُن کے پاس لے گیا تھا۔ تو جس طرح میں نے اُنہیں وہ کرتا دے کر غمگین کیا تھا۔ آج یہ کرتا لے جا کر ان کو خوش کردوں گا۔ چنانچہ یہودا یہ کرتا لے کر گھر پہنچا اور اپنے والد کے چہرے پر ڈال دیا تو اُن کی آنکھوں میں بینائی آگئی۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے تہجد کے وقت کے بعد اپنے سب بیٹوں کے لئے دعا فرمائی اور یہ دعا مقبول ہوگئی۔ چنانچہ آپ پر یہ وحی اتری کہ آپ کے صاحبزادوں کی خطائیں بخش دی گئیں ۔
پھر مصر کو روانگی کا سامان ہونے لگا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد اور سب اہل و عیال کو لانے کے لئے بھائیوں کے ساتھ دو سو سواریاں بھیج دیں تھیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے گھروالوں کو جمع کیا تو کل بہتر یا تہتر آدمی تھے جن کو ساتھ لے کر آپ مصر روانہ ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے۔ حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے مصر جانے سے صرف چار سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ جب حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے چار ہزار لشکر اور بہت سے مصری سواروں کو ساتھ لے کر آپ کا استقبال کیا اور صدہا ریشمی جھنڈے اور قیمتی پرچم لہراتے ہوئے قطاریں باندھے ہوئے مصری باشندے جلوس کے ساتھ روانہ ہوئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند ''یہودا'' کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھے۔ جب ان لشکروں اور سواروں پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ فرعونِ مصر کا لشکر ہے؟ تو یہودا نے عرض کیا کہ جی نہیں۔ یہ آپ کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو اپنے لشکروں اور سواروں کے ساتھ آپ کے