شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی مشہور زمانہ تالیف ''فیضانِ سنّت ''جلد اول کے صفحہ ۱۳۷۰پر لکھتے ہیں:
شاھدرہ (مرکز الاولیالاہور) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے، میں اپنے والِدین کا اِکلوتا بیٹا تھا ، زیادہ لاڈ پیار نے مجھے حد دَرَجہ ڈھیٹ اورماں باپ کا سخت نافرمان بنا دیا تھا ، رات گئے تک آوارہ گردی کرتا اور صبح دیر تک سویا رہتا ۔ ماں باپ سمجھاتے تو اُن کو جھاڑ دیتا ۔ وہ بے چارے بعض اوقات رو پڑتے۔ دعائیں مانگتے مانگتے ماں کی پلکیں بھیگ جاتیں۔ اُس عظیم لمحے پر لاکھوں سلام جس'' لمحے '' میں مجھے دعوتِ اسلامی والے ایک عاشقِ رسول سے مُلاقات کی سعادت ملی اور اُس نے مَحبَّت اور پیار سے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھ پاپی و بدکار کو مَدَنی قافِلے میں سفر کیلئے تیّار کیا۔چُنانچِہ میں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ تین۳ دن کے مَدَنی قافِلے کامسافِر بن گیا۔ نہ جانے ان عاشِقانِ رسول نے تین ۳ دن کے اندر کیا گَھول کر پِلا دیا کہ مجھ جیسے ڈِھیٹ انسان کا پتّھر نُما دل جو ماں باپ کے آنسوؤں سے بھی نہ پِگھلتا تھا موم بن گیا ، میرے قَلب میں مَدَنی اِنقِلاب برپا ہو گیااور میں مَدَنی قافِلے سے نَمازی بن کر لوٹا۔ گھر آ کر میں نے سلام کیا ، والِد صاحِب کی دَست بوسی کی اور امّی جان کے قدم چومے ۔ گھر والے حیران تھے! اس کو کیا ہو گیا ہے کہ کل تک جو کسی