Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
64 - 71
(29)غیبت کی برائی
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِیبَۃُ قَالُوْا الَلّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ قِیلَ أَفَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ فِیْ أَخِیْ مَا أَقُوْلُ قَالَ إِنْ کَانَ فِیہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہُ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِ مَاتَقُوْلُ فَقَدْ بَہَّتَہُ
( مشکوۃ المصابیح ،کتاب الآدب ، باب حفظ اللسان ۔۔۔۔۔۔الخ، الفصل الاول ، الحدیث ۴۸۲۸ ، ج ۲ ، ص ۱۹۲)
ترجمہ:

     روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیا جانتے ہو غیبت کیا ہے (۱)سب نے عرض کیا اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی خوب جانیں فرمایا تمھارااپنے بھائی کا ناپسندیدہ ذکر کرنا (۲)عرض کیا گیا فرمائیے تو اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جو میں کہتا ہوں (۳)فرمایا اگر اس میں ہو جو تو کہتاہے تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ نہ ہو جو تو کہتاہے تو تو نے اس پر بہتان لگایا (۴)

وضاحت :

    (۱)قرآن مجید میں ہے لَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا یعنی بعض مسلمان بعض کی غیبت نہ کریں کیا جانتے ہو غیبت کیا ہے اور ا سکی تفسیر کیا ہے۔

     (۲)یعنی کسی کے خفیہ عیب اس کے پسِ پشت بیان کر نا عیب خواہ جسمانی ہو یا
Flag Counter