Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
40 - 71
(15)فضائل قرآن
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَال:َ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اِقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَإِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ تَقْرَؤُہَا۔
( مشکوۃالمصابیح ،کتاب فضائل القرآن ، الفصل الثانی ، الحدیث۲۱۳۴، ج۱ ، ص ۴۰۲)
ترجمہ:

     روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم نے کہ قرآن والے سے کہا جائے گا (۱)پڑھ اور چڑھ (۲)اور یونہی آہستگی سے تلاوت کر جیسے دنیا میں کرتا تھا آج تیرا ٹھکانہ و مقام وہاں ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے۔ (۳)    

وضاحت :

     قرآن والے سے مراد وہ مسلمان ہے جو ہمیشہ تلاوت کرتا ہو اور اس پر عامل ہو، وہ شخص نہیں کہ جو قرآن پڑھتا ہواور قرآن اس پر لعنت کرتا ہو کہ یہ تلاوت توعذاب الٰہی کا باعث ہے بعض آریہ اور عیسائی بھی قرآن پاک پر اعتراضات کرنے کیلئے قرآن پاک پڑھتے بلکہ حفظ تک کرلیتے ہیں پنڈت کالی چرن چودہ پاروں کا حافظ ہوا         (۲)جنت کے درجے اوپر تلے ہیں جس قدر درجے کی بلندی اسی قدر بہتر انشاء اللہ اس دن تلاوت قرآن مومن کیلئے پروں کا کام دے گی یا اس سے مراتب
Flag Counter