| آدابِ دین |
(رعایا کوچاہے کہ) حاکم کے دروازے پرآناجاناکم رکھے، اس سے اسی کام میں مدد لے جو اس کی ذمہ داری ہے اگرچہ وہ نرم طبیعت کا مالک ہو پھر بھی ہروقت اس کاخوف دل میں رکھے، اگرچہ وہ خوش مزاج اورنرم دل ہوپھربھی اس پر جرأ ت ودلیری کامظاہرہ نہ کرے، اگرچہ وہ سوال پورا کر دیتاہو پھربھی اس سے سوال کم کرے۔ جب حاکم موجود ہو تو اس کے لئے دعا کرے،اس کے متعلق نازیبا کلام نہ کرے۔ جب موجود نہ ہو تواس کی تعریف و توصیف کرے۔
قاضی کے آداب
(قاضی کوچاہے کہ) ہمیشہ خاموشی اختیارکرے،صبروتحمل کو اپنا شعار بنائے، اعضاء کو پرسکون رکھے ،لوگوں کو ظلم وزیادتی اورفسادبرپاکرنے سے روکے، حا جت مندوں کے ساتھ نرمی و شفقت سے پیش آئے، یتیم کے معاملے میں احتیاط سے کام لے، جواب دینے میں جلدی نہ کرے، جھگڑاکرنے والوں کے ساتھ نرم برتاؤ کرے، باہم مخالف دو آدمیوں میں سے کسی ایک کی طرف رغبت ومیلان نہ رکھے، جھگڑا کرنے والوں کو وعظ ونصیحت کرے، ہمیشہ درست فیصلہ کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات کاسہارا لے۔