| آدابِ دین |
تاجر نے جو کام ملازم پر لازم کیا ہے اگر خود اس کا ذمہ دار ہے تو بہتر یہ ہے کہ خود کرے۔ ناپ تول اوروزن کرنے کا پیمانہ اور ترازو کا پتھر معتبروقابلِ اعتماد لوگوں سے خریدے، بیچتے وقت مال کی جھوٹی تعریف اور خریدتے وقت بے جا مذمت نہ کرے، لوگوں کو کوئی خبر وغیرہ دیتے یاسناتے وقت سچائی سے کام لے، نیلامی کے وقت فحش گوئی اور گفتگوکرتے وقت جھوٹ بولنے سے بچے، دُکان داروں کے ساتھ بے ہودہ و لغوباتوں میں نہ پڑے اورنئے لوگوں کے ساتھ ہنسی مذاق نہ کرے اور لڑائی جھگڑا نہ کرے ۔
سِکّے پرکھنے والے کے آداب
(سِکّے کی جانچ پڑتال کرنے والے کوچاہے کہ)حقیقت وسچائی پر یقین رکھے، امانتوں کی ادائیگی کرے، سودسے بچے، اُدھار کی ادائیگی میں جلدی کرے،لوگوں کو کھوٹے سکے نہ دے، تول وغیرہ میں وزن کو پورا کرے،دھوکہ اورملاوٹ وغیرہ نہ کرے کہ اس سے اپنا معیار کھو بیٹھے گا اور سنگِ ترازو(تول وغیرہ کے پتھر) اوروزن کے پیمانوں میں کمی کرنے سے ڈرے۔
سنارکے آداب
( سونے کا کام کرنے والے کو چاہے کہ) بزرگانِ دِین کی نصیحت پر عمل کرے، زیورات کو عمدہ وخوب صورت بنانے میں خوب کوشش کرے ، ٹالَم ٹول سے کام نہ لے بلکہ جووعدہ کیا ہو اسے پورا کرے،کام کی اجرت لینے میں زیادتی نہ کرے۔