Brailvi Books

آدابِ دین
28 - 60
دے ،قبلہ رو ہوکربیٹھے، دل میں خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ پیدا کرے ،گفتگوکم کر ے ، (مسجدمیں)لعن طعن کرنے سے بچے ، نہ تو مسجد میں آواز بلند کرے، نہ تلوار سونتے، نہ تیراندازی کرے، نہ (دُنیوی) کام کرے، نہ گم شدہ چیز تلاش کرے، نہ خریدو فروخت کرے اورنہ ہی ہم بستری کرے۔ جب مسجدسے نکلے توپہلے بایاں (یعنی اُلٹا) پاؤں باہرنکالے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس فضل کا سوال کرے جو وہ عطا فرماتا ہے (یعنی مسجدسے نکلنے کی دُعا (۱)پڑھے)۔
اعتکاف کے آداب
    (اعتکاف کرنے والے کوچاہے کہ) ہمیشہ ذکرمیں مشغول رہے، اپنے غموں اور فکروں کو مجتمع کرلے(یعنی دنیوی خیالات میں مشغول نہ ہو)، فضول گوئی نہ کرے، (خشوع وخضوع حاصل کرنے کے لئے) ایک جگہ مخصوص کر لے اور اِدھر اُدھر نقل وحرکت نہ کرے، نفس کو اس کی خواہشات اور پسندیدہ چیزوں سے روک کر اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت و عبادت پر مجبورکرے۔
اَذان کے آداب
    اذان دینے والا موسمِ سرما وگرما میں اوقاتِ اَذان کی پہچان رکھتا ہو، منارے پر چڑھتے وقت نگاہیں جھکائے رکھے، دورانِ اذان
''حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ''
اور
''حَیَّ عَلَی الْفَلَاح''
کہتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ گھمائے، اَذان ٹھہر ٹھہر کر اور اقامت جلدی جلدی کہے۔
1۔۔۔۔۔۔مسجد سے نکلنے کی دعا یہ ہے:
 ''اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک۔''
(صحیح ا لمسلم،کتاب صلوۃ المسافرین۔۔۔۔۔۔الخ،باب مایقول اذا دخل ا لمسجد،ا لحدیث ۱۶۵۲، ص۷۹۰)
Flag Counter