| اچھے ماحول کی برکتیں |
اڈے ہیں، جو رحمت خداوندی سے دورکرتے ہیں، لہذا اے مسلمانو! اگر بارگاہِ خداوندی سے انعام کے طلبگار ہو تو دھوکا و فریب کے منام سے بیدار ہو کر اچھے ماحول سے وابستہ ہوجاؤ اور اپنی ذات کو نیک اعمال سے گل گلزار کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہیں وہ فردوس عطا کریگا جس کی لازوال نعمتیں ہما رے انتہائی تصور خوباں سے بھی اعلیٰ اور بالاتر ہیں۔
اچھے دوست کی ہمنشینی سَعادتِ دارین ہے
ابن ابی الدنیا، بیہقی نے شعب الایمان میں ،ا ور ابو نعیم نے حضرت مجاہد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کی ہے کہ کوئی نہیں مرتا مگر اس کے اہلِ مجلس اس پر پیش کیے جاتے ہیں اگر وہ (مرنے والا ) اہلِ ذکر سے ہوتا ہے تو ذکر والے اور اگر کھیل کود والوں میں سے ہوتا ہے تو کھیل کود والے پیش کیے جاتے ہیں۔
(حلیۃ الاولیاء، مجاہد بن جبر، الحدیث:۴۱۱۵، ج۳، ص۳۲۴)
پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے تاکہ جب ہم مرتے وقت اہلِ ذکرکو ملاحظہ کریں تو ہمارے لبوں پر بھی اللہ عزوجل کا ذکر جاری ہو۔
اچھے ہمنشین کی پہچان
حدیث شریف میں ہمیں اچھے دوست کی پہچان بتائی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا۔
'' اچھا ہمنشین وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔(الجامع الصغیر، حرف الخاء، الحدیث:۴۰۶۳، ص۲۴۷)