Brailvi Books

ابلق گھوڑے سوار
23 - 46
 ساتھ صِرْف ایک چیز دینابھی کافی ہے۔ مَثَلاً ،تلّی، کلیجی ،سری پائے ڈالے ہیں تو گوشْتْ کے ساتھ کسی کو تلّی دیدی، کسی کو کلیجی کا ٹکڑا ، کسی کو پایہ، کسی کو سری۔ اگر ساری چیزوں میں سے ٹکڑا ٹکڑا دیناچاہیں تب بھی حَرَج نہیں۔	
قُربانی کے گوشت کے تین حصّے
	قربانی کا گوشْتْ خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسرے شخص غنی (یعنی مالدار)یا فقیر کو دے سکتا ہے کِھلا سکتا ہے بلکہ اس میں سے کچھ کھا لینا قربانی کرنے والے کے لیے مُستحب ہے۔ بہتر یہ ہے کہ گوشْتْ کے تین حصّے کرے ایک حصّہ فُقَراء کے لیے اور ایک حصّہ دوست و اَحباب کے لیے اور ایک حصّہ اپنے گھر والوں کے لیے۔(عالمگیری ج۵ص۳۰۰) اگر سارا گوشْتْ خود ہی رکھ لیا تب بھی کوئی گناہ نہیں۔ میرے آقااعلیٰ حضرت ، امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں :تین حصّے کرنا صِرْف اِسْتِحْبابِی اَمر ہے کچھ ضَروری نہیں ، چا ہے  توسب اپنے صَرْف (یعنی استعمال )میں کر لے یا سب عزیزوں قریبوں کو دے دے،یا سب مساکین کو بانٹ دے۔			       (فتاوٰی رضویہ ج۲۰ص۲۵۳) 
وَصیّت کی قُربانی کے گوشت کا مسئَلہ
	مَنّت یا مرحوم کی وصیَّت پر کی جانے والی قُربانی کا سب گوشت فُقَراء اور مساکین کو صَدَقہ کرنا واجِب ہے نہ خود کھائے نہ مالداروں کو دے۔
					( ماخوذ از بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۵ )