شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی مشہور زمانہ تالیف ''فیضانِ سنّت ''جلد اول کے صفحہ 812 پر لکھتے ہیں:
عاشِقانِ رسول کاایک مَدَنی قافِلہ جہلم (پنجاب) کے ایک گاؤں میں12دن کیلئے سنّتوں کی تربیّت کی خاطِر پہنچا۔جس مسجِد میں قِیام تھا،اس کے سامنے والے گھر میں رَہنے والے ایک نوجوان پرایک عاشقِ رسول نے انفرادی کوشِش کرتے ہوئے مَدَنی قافلے میں سفر کی ترغیب دلائی وہ نوجوان صرف 2دن ساتھ رہنے کیلئے تیاّر ہوئے اورمَدَنی قافلے والوں کے ساتھ سنّتیں سیکھنے سکھانے میں مصروف ہوگئے ۔ صرف دو دن مَدَنی قافِلے میں گزارنے کی بَرَکت سے اپنے گھر میں نَمازوں کی تلقین کی ۔ چُونکہ گھر کے بااثر فرد تھے ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہ تقریباً سبھی نے نَماز پڑھنا شروع کردی۔ برابر میں ماموں کے گھرجا کر بھی نیکی کی دعوت پیش کی۔گھر والوں کو. T.Vکی تباہ کاریاں بتا کر اسے گھر سے نکالادینے کا ذِہْن دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّہ عَزَّوَجَلَّ با ہَمی رِضامندی سے گھر سے. T.V نکا ل دیا گیا۔دوسرے دن صبح کپڑوں پراِستری کرتے ہوئے اچانک انہیں کرنٹ لگا اور اُسی وقت انہوں نے دم توڑدیا گھر والوں کا کہنا ہے کہ ہم نے واضِح طور پر سُنا کہ بوقتِ وفات اُن کی زَبان پر