(۲) اس طر ح کہ نماز کی حالت میں ان کے دلوں میں رب کا خوف ، اعضاء میں سکون ہوتا ہے، نظر اپنے مقام پر قائم ہوتی ہے،نماز میں عبث کام نہیں کرتے ۔ دھیان نماز میں رہتا ہے ، نماز قائم کرنے کے یہ ہی معنیٰ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نصیب کرے ۔
(۳)یعنی ایساکام نہیں کرتے جس میں دینی یا دنیا وی نفع نہ ہو ، خیال رہے کہ مضر کام باطل ہے او ربے فائدہ کا م لغو ، تقویٰ کے لئے ان دونوں سے بچے ۔
(۴)یعنی ہمیشہ زکوٰۃ دیا کرتے ہیں ۔
(۵) اس طر ح کہ زنا اور لوازم زنا سے بچتے ہیں حتٰی کہ غیر کا ستر دیکھتے نہیں۔
(۶) اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن اپنی شرعی لونڈی سے صحبت کرسکتا ہے۔ مگر مولاۃ عورت اپنے غلام سے صحبت نہیں کر اسکتی ۔