قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: بیشک مراد کو پہنچے ايمان والے (۱)جو اپنی نماز میں گِڑگِڑاتے ہیں(۲)اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے (۳)اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں(۴) اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں(۵) مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں(۶) کہ ان پر کوئی ملامت نہیں ۔(پ۱۸، المؤمنون: ۱تا۶)
تفسير:
(۱) اس طر ح کہ جنت اور وہاں کی نعمتوں کے مستحق ہوئے ۔دیدار الہٰی کے حق دار بنے، یا دنیا میں مقبول الدعاء ہوئے اور ان کی زندگی کامیاب ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ایمان اورتقویٰ دونوں جہان کی کامیابیوں کا ذریعہ ہے ۔اس سے دعائیں قبول