Brailvi Books

آیاتِ قرآنی کے اَنوار
31 - 60
 (16)فضيلت صديق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ
ترجمہ کنزالایمان:
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافر وں کی شرارت سے باہرتشريف لے جاناہواصر ف د وجان سے جب وہ دونوں غارميں تھے (۱) جب اپنے يا ر سے (۲) فرماتے تھے (۳) غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے(۴) تو اللہ نے اس پراپناسکينہ اتارا (۵)۔(پ۱۰، التوبۃ:۴۰ )
تفسير:
    (۱)نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم اور حضرت صديق جو حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کے يا رِ غار ہيں۔ لفظ يا رِ غار اس آيت سے حاصل ہوا۔آج بھی دلی دوست اور باوفا يا ر کو يا رِ غار کہا جاتا ہے۔

    (۲) اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ايک يہ کہ ابوبکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابيت قطعی ايمانِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے۔دوسرا يہ کہ صديق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ حضورصلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہيں رب عزوجل
Flag Counter