Brailvi Books

آئینہ عبرت
67 - 133
     ۱۷۶ھ؁ میں وفات پائی۔(1)(نووی،تہذیب التہذیب وطبقات شعرانی)
(۱۰) حضرت عمر بن ذر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
   یہ بھی بزرگان سلف میں بڑے پائے کے بزرگ ہیں۔ منقول ہے کہ ان کا ایک پڑوسی جو بہت ہی بدکار اور نہایت ہی گنہگار تھا۔ اس کا انتقال ہوگیا تو اس کے فسق و بدکاری کی وجہ سے تمام اہلِ محلہ نے اس کے جنازہ کا بائیکاٹ کردیا اور گھنٹوں اس کا جنازہ پڑا رہا کوئی اس کو اٹھانے کے لیے نہیں آیا۔ جب حضرت عمر بن ذر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو اس کی خبر ملی تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آکر اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کو دفن کیا پھر اس کی قبر پر کچھ دیر ٹھہر کر فرمایا کہ اے ابوفلاں! خداوند کریم تجھ پر رحمت فرمائے تو عمر بھر عقیدہ توحید و رسالت پر قائم رہا اور ہمیشہ تو خداوند قدوس کو سجدہ کرتارہا۔ آج لوگوں نے تجھے بدکار وگنہگار کہہ کر تیرے جنازہ کا بائیکاٹ کردیا۔ افسوس! آج ہم میں کون ایسا ہے جو گنہگار نہیں ہے۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس گنہگارمیت کے لیے دیر تک دعائے مغفرت فرمائی اور روتے رہے۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۲)
 (۱۱) ایک عابد کبیر
    منقول ہے کہ ایک شرابی اور بڑا ہی پاپی بدکار بصرہ کے اطراف میں رہتا تھا۔ اس کا انتقال ہوا تو چونکہ پورا گاؤں اس سے ناراض و بیزار تھا کوئی شخص اس کا جنازہ اٹھانے اور نماز جنازہ پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوا مجبورا ً اس کی بیوی نے دو مزدوروں
1۔۔۔۔۔۔الطبقات الکبری للشعرانی،ابو بشر صالح المری،ج۱،ص۶۷۔ تہذیب التہذیب، صالح بن بشر بن وادع،ج۴،ص۶

2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس فی اقاویل العارفین...الخ،ج۵،ص۲۳۶
Flag Counter